میری والدہ — Page 31
۳۱ کا فرض روزہ نہیں رکھنا چاہئے )۔میر اتعلیم کے لئے انگلستان جانا 1911ء میں خاکسار نے بی۔اے کا امتحان پاس کیا اور والد صاحب کی یہ خواہش ہوئی کہ خاکسار کو مزید تعلیم کے لئے انگلستان بھیجا جائے۔اُن کی ہدایت کے ماتحت خاکسار نے حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عریضہ لکھا اور والد صاحب کی خواہش کے مطابق انگلستان جانے کے لئے حضور سے اجازت طلب کی۔حضور نے ہدایت دی کہ والد صاحب اور خاکسار دونوں استخارہ کریں۔استخارہ کے بعد اگر طبیعت میں اطمینان ہو۔تو خاکسار انگلستان چلا جائے۔چنانچہ ہم دونوں نے استخارہ کیا اور کوئی امر مانع نہ پا کر خاکسار نے والد صاحب کی ہدایت کے ماتحت انگلستان کے سفر کی تیاری شروع کر دی۔والدہ صاحبہ کو خاکسار سے اس قدر لمبی جدائی گوارا نہ تھی۔اُن کی یہ خواہش تھی کہ کوئی ایسا فیصلہ خاکسار کی آئندہ تعلیم کے متعلق ہو جائے جس کے نتیجہ میں خاکسار کو اتنا لمبا سفر اختیار نہ کرنا پڑے اور نہ والدہ صاحبہ سے اس قدر لمبا عرصہ الگ رہنا پڑے۔لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو آخر انہیں بھی اس پر رضا مند ہونا پڑا۔گوان کی رضامندی بادلِ نا خواستہ ہی تھی۔اگست 1911ء کے آخر میں خاکسار سیالکوٹ سے روانہ ہوا بہ والد صاحب، والدہ صاحبہ اور ماموں صاحب بھی ہمراہ تھے۔اول تو ہم سب قادیان حاضر ہوئے۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔یہ والدہ صاحبہ کے قادیان حاضر ہونے کا پہلا موقعہ تھا اور اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات کو دیکھکر والدہ صاحبہ نے چان لیا کہ یہی مکانات اُنہوں نے اپنے ایک رویا میں دیکھے تھے اور اس سفر کے متعلق اتفاق بھی ایسا ہوا کہ ہم سیالکوٹ سے فجر سے کچھ قبل روانہ ہوئے اور عصر کے