میری والدہ — Page 29
لئے چلیں۔تو چوہدری صاحب نے فرمایا کہ انہیں انشراح صدر نہیں۔چنانچہ والد صاحب اُن کے بغیر ہی حضرت اقدس کی خدمت میں تشریف لے گئے اور بیعت کر لی۔اس موقعہ پر بھی خاکسار ان کے ہمراہ تھا۔یہ دن غالباً اکتوبر کے پہلے دو تین دنوں میں سے تھا اور وقت فجر کی نماز کے بعد کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں کثرت سے لوگوں نے بیعت کی۔لیکن مولوی فیض الدین صاحب مرحوم اور والد صاحب کے سلسلہ میں شامل ہونے کا سیالکوٹ میں بہت چر چاہو ا۔اس کے قریباً ایک سال بعد یعنی تمبر ۱۹۹۵ء میں والد صاحب پہلی دفعہ دار الامان حاضر ہوئے اور خاکسار کو بھی ساتھ لیتے گئے۔بعد میں اُن کا یہ معمول رہا کہ جب تک وہ سیالکوٹ پر میٹس کرتے رہے۔ستمبر کی تعطیلات کا کچھ حصہ دارالامان میں گزارا کرتے تھے اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے بھی حاضر ہو ا کرتے تھے۔خاکسار بھی ان اوقات میں عموما ان کے ہمراہ قادیان حاضر ہو ا کرتا تھا۔والدہ صاحبہ کی مجھ سے محبت والدہ صاحبہ کا دل نہایت ہی نرم اور تحقیق تھا اور خاص طور پر خا کسبار اس شفقت کا مورد تھا۔کچھ تو اس لحاظ سے والدہ صاحبہ کو خاکسار کے ساتھ خاص اُنس تھا کہ پانچ بچوں کی وفات کے بعد خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے رشد تک پہنچنے کی مہلت عطا فرمائی اور کچھ اس وجہ سے کہ چھوٹی عمر میں ہی خاکسار کو آشوب چشم کا عارضہ ہو گیا اور اس کی یہ کیفیت ہو گئی کہ دس سال کی عمر سے لے کر سولہ سال کی عمر تک گرمیوں میں خاکسار بہت کم باہر نکل سکتا تھا اور بعض دفعہ ہفتوں اندھیرے کمرے میں گزارنے پڑتے تھے۔اس تمام عرصہ میں والدہ صاحبہ اکثر خاکسار کے ساتھ رہا کرتی تھیں۔اس طرح خاکسار کو ان کی صحبت بھی خصوصیت سے میسر آتی رہی اور پھر دل را بدل رہیست کے