میری پونجی — Page 229
میرے ابا جان شیخ محمد حسن صاحب کا خاندانی پس منظر میرے بھائی محمد اسلم خالد نے ابا جان کے پاس بیٹھ کر اُن کی زندگی میں اُن کے کچھ حالات لکھے تھے اُن میں سے ہی مختصر کر کے میں لکھ رہی ہوں : ہم لدھیانہ میں دو منزلہ گھر جس میں رہتے تھے، اُس کے ماتھے پر ھل مِنْ فَضْلِ رَبّی لکھا ہوا تھا۔جس کو ویکفیلڈ گنج کہتے تھے، کوچہ نمبر 9 تھا۔ویکفیلڈ گنج کو عام طور پر صرف فیل گنج کے نام سے ہی بلایا جاتا تھا۔میرے والد صاحب کا نام نور محمد تھا اور والدہ صاحبہ کا نام مکرمہ فاطمہ بی بی صاحبہ تھا۔دادا کا نام محمد بخش صاحب اور پڑدادا کا نام قادر بخش تھا۔ہمارے بڑے بھائی مکرم غلام نبی صاحب مرحوم بتاتے تھے کہ گاؤں کا نام ”شیخاں دا گھد الا تھا۔شاید اسی لیے آگے سب شیخ کہلائے یا ممکن ہے کہ آباؤ اجداد ہندوؤں سے مسلمان ہوئے ہوں۔واللہ اعلم۔والد صاحب کی تاریخ پیدائش کا کوئی اندازہ نہیں۔ہمارے خاندان کو آلی والیوں کا خاندان بھی کہا جاتا تھا۔اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے آبا و اجداد کتکہ کے کھلاڑی تھے اور اکثر کٹریل جوان ہوا کرتے تھے۔میں نے اپنے دادا کے بھائی دیکھے ہیں بہت جاہ وجلال والے تھے۔لوگ ان کے پاس اپنے فیصلے وغیرہ کروانے آیا کرتے تھے۔سرخ وسفید چہرہ تھا۔مانگ درمیان میں نکالا کرتے۔ان کا نام رحیم بخش تھا۔میری والدہ فاطمہ بی بی جن کو ہم بی بی کہتے تھے بڑی وضع دار خاتون تھیں۔گھر میں نہ صرف اپنے بچوں کی کثرت تھی بلکہ ہمارے والد کی عادت تھی کہ رشتہ داروں میں اگر کوئی یتیم ہوتا تو اسے گھر لے آتے۔اٹھارہ بیس افراد ہر وقت گھر میں ہوتے تھے۔اتنے بچوں کو قابو میں رکھنا ایک (229)