میری پونجی — Page 230
میری یونجی مضبوط اعصاب والی خاتون کا تقاضا کرتا ہے اور وہ ہماری والدہ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کر رکھے تھے۔رعب اور دبدبہ کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس ایک لمبی چھڑی بھی رکھی ہوتی تھی۔گلی محلہ کے لوگ بھی عزت سے پیش آتے۔یہاں تک کہ محلہ کے اوباش لڑکے سڑکوں پر کھڑے ہوتے تو بی بی کو دیکھ کر راہ سے ہٹ جاتے۔میں نے لڑکوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ بی بی آرہی ہے راستہ سے ہٹ جاؤ۔ہمارا گھر قبرستان کے قریب تھا اور اکثر غمزدہ لوگ اپنے عزیزوں کی تدفین کیلئے ہمارے گھر کے قریب سے گزرتے۔والدہ صاحبہ کو علم ہو جاتا کہ کوئی میت آئی ہے تو آپ کا طریق تھا کہ فوراً کوئی نہ کوئی مشروب بنا کر لے جاتیں اور غم زدہ لوگوں کو پلاتیں اور ڈھارس بندھاتیں۔غریبوں ، ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کی مدد کیلئے بے چین ہو جاتیں۔اکثر رات کے اندھیرے میں گھر سے نکلتیں اور غریب گھروں میں جا کر ان کی مدد کرتیں۔مجھے یاد ہے جب آپ کی وفات ہوئی تو سوگوار لوگوں میں غریب لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔بچپن کی شرارتوں پر تو سب ہی کو سرزنش ہوتی ہے۔ایک بار میں بھی اسی ڈر سے کہ آج اپنی خیر نہیں ڈرا اور سہا گھر پہنچا۔بی بی کا سامنا ہوا تھر تھر کانپنے لگا۔اپنا زخمی ہاتھ پیچھے چھپارکھا تھا کہ بی بی نے میری حالت کا اندازہ لگا لیا اور مجھے کہا کہ ہاتھ دکھاؤ کیوں چھپا رہے ہو۔انگلی ڈور سے کٹی ہوئی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔یہ دیکھ کر سخت گیر ماں کا بہت اس کی اپنی ہی مامتا کی تپش میں پگھل گیا۔سخت بے چین ہو ئیں اور پانی کی پٹی رکھنے لگیں۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ بی بی نے مسجد فضل لندن کی تحریک میں اپنی سونے کی بالیاں چندہ میں۔دیں۔الحمدللہ کہ آج مجھے اور میرے بچوں کو اس مسجد میں خدمت کی توفیق ملی۔ایک بار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی لدھیانہ سے گزر رہے تھے کہ والدہ صاحبہ بھی تشریف لے گئیں۔میری عمر اسوقت تقریباً چھ سال ہوگی، والدہ صاحبہ نے مجھے اٹھا کر حضور کا دیدار کر وایا تھا۔حضور کو دیکھ کر میری والدہ نے ایک فقرہ کہا کہ دیکھو کس قدر نورانی چہرہ ہے۔میں نے پلٹ کر دیکھا (230)