میری پونجی — Page 300
علاج بھی ہو سکے۔وہ تین ماہ میری بہن یہاں لندن میں ہمارے پاس ہی رہی۔زیادہ وقت میرے ساتھ ہی گزارا۔وہ بہت چھوٹے چھوٹے چار بچوں کو چھوڑ کر آئی تھی۔بچوں کو بے حد یاد کرتی تھی لیکن ساتھ ہی وہ اپنے شوہر کی بھی شکر گزار تھی جس نے اتنے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے کی ذمہ واری لی اور اُس کو اپنے والدین کی ملاقات کیلئے یہاں بھجوادیا۔ہم دونوں بہنیں رات رات بھر جاگیں اور اتنی باتیں کیں کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔ہنسنا اور رونا بھی شامل رہا۔بچھڑے لمحوں کو پل پل یاد کیا۔ہم دونوں نہیں جانتے تھے کہ یہ پل دوبارہ زندگی میں کبھی نہیں آئیں گے۔اُس کے لندن سے جانے کے دو تین سال بعد ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔فون اُٹھایا تو وہی ہنستی کھلکھلاتی ہوئی آواز ہنسی مذاق کی باتیں۔آخر میں ایک دم چپ ہوگئی۔کہنے لگی آپا آپ بیٹھ جائیں اب میں آپ کو ایک ایسی خبر سنانے لگی ہوں جس کیلئے آپ یقیناً تیار نہیں ہونگی۔مگر بہت ضروری بات ہے جو سب سے پہلے آپ کو ہی بتا رہی ہوں۔مجھے بالکل یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا انکشاف کرنے جا رہی ہے۔میں پھر بھی اُس کی سنجیدگی کو نہ سمجھ سکی۔تھوڑی دیر چپ ہو کر کہتی ہے آپا مجھے کینسر ہے اور کل میرا آپریشن ہے۔اب آپ امی ابا جان کو جیسے بھی مناسب سمجھیں بتادیں۔میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔کیا بتاؤں ایسے مواقع پر ہم دور بیٹھنے والوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔دعا ئیں ،صدقات جو کچھ ہوسکتا تھا، کیا لیکن وہ کہتے ہیں ناے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی وہ شاید ہماری تھی ہی نہیں۔وہ شروع دن سے اللہ کی پیاری تھی۔اُس کو تو اللہ ہم سب سے بھی زیادہ پیار کرتا تھا۔ہم گھر والے ہی نہیں اُس کو سب باہر والے بھی اُتنا ہی پیار کرتے تھے۔ہرفن مولی تھی۔کون سا کام تھا جو وہ نہیں کر سکتی تھی۔پڑھائی میں گریجوایٹ تھی۔سلائی کڑھائی ، صفائی ، کھانوں کی نئی نئی تراکیب کو آزمانا اُس کا شوق تھا۔مزاح کی دلدادہ لیکن اپنے درد کو ہمیشہ چھپا کر رکھنے والی ،سب کے کام آنے والی میری بہن آج اس دنیا میں نہیں ہے۔اُس کے نام کا پہلا حرف (300)