میری پونجی — Page 301
بشری کی (ب) لکھنا بھی میرے لیے انتہائی مشکل ہورہا ہے لیکن اُس کے بے شمار احسانوں میں سے صرف ایک کا ذکر کر دیتی ہوں۔یہ پشاور کا ذکر ہے۔جب لینی میری بڑی بیٹی کوئی پانچ یا چھ ماہ کی ہوگی۔مہینہ کی آخری تاریخیں تھیں۔ہم جیسے جوتنخواہ دار ہوتے ہیں اُن کیلئے یہ آخری تاریخیں بہت دشورا ہوتی ہیں۔کچھ اسی طرح کی ہمیں بھی کوئی بہت بڑی پریشانی تھی۔سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں کہ اچانک ایک دن صبح ہی صبح پوسٹ مین آیا کہ آپ کا منی آرڈر آیا ہے۔ہم بہت حیران ہوئے کہ یہ کہاں سے ہوسکتا ہے۔یہ منی آرڈر میری بشری نے بھیجا تھا۔ساتھ ایک خط بھی ملاجس میں لکھا ہوا تھا کہ آپا کئی دنوں سے پیسے جمع کر رہی تھی کہ کوئی اچھی سی چیز خریدوں گی لیکن آج سوچ سوچ کر مجھے یہ ہی اچھا لگا کہ یہ رقم میں آپ کو ارسال کر دوں۔ہو سکتا ہے آپ کو مجھ سے زیادہ ضرورت ہو یا پھر نیناں ( لبنی کا پیار کا نام ) کو میری طرف سے کوئی اچھا سا تحفہ لے دیں۔اب اس وقت مجھے یہ یاد نہیں کہ رقم کتنی تھی۔ہاں یہ ضرور یاد ہے کہ وہ اُس وقت ہمارے لیے لاکھوں تھے۔سوچتی ہوں کتنی دور بیٹھی میری بہن اپنی ضروریات کو قربان کر کے اپنی بہن کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ایک بار ہی ایسے نہیں ہوا بلکہ میری بہنوں اور بھائی نے ہمیشہ ہی ایک دوسرے کو پیار بھی دیا اور ایک دوسرے کیلئے ایسے ہی سوچا۔الحمد للہ۔جب میری شادی ہوئی تو میرے تینوں بہن بھائی بہت چھوٹے تھے۔اس لحاظ سے اُن تینوں کے ساتھ میرا بہت پیار بھی تھا۔پھر اُسی طرح سامی صاحب نے بھی میری بہنوں اور بھائی کو ویسے ہی پیار دیا جیسے کہ کوئی سگا بھائی دے سکتا ہے۔بشری کے ساتھ تھوڑا زیادہ اس لیے بھی کہ وہ لکھنے کا شوق رکھتی تھی اور سامی صاحب نے بھی اُردو میں ایم اے کیا ہوا تھا۔لکھتے وہ بھی تھے اس لیے دونوں ہم ذوق بھی تھے جس کی وجہ سے ان کا قلمی رشتہ بھی تھا۔آج بھی میرے پاس سامی صاحب کے لکھے ہوئے وہ خطوط، جو انہوں نے میری بہنوں اور خالد کے نام لکھے تھے ، موجود ہیں۔یہ خط خطوط (301)