میری پونجی

by Other Authors

Page 299 of 340

میری پونجی — Page 299

تھا۔باہر کھلے میدان سے بالشت بھر کیکر کا پودا نکال کر لائے تھے جس نے ہماری گرمیوں کی تبتی دھوپ میں سایہ کا کام کیا۔پنکھے تو ان دنوں میں ہوتے نہیں تھے لیکن ان ننھے ہاتھوں سے لگایا ہوا یہ درخت ہمارے لیے باعث رحمت بنا رہا۔قوت برداشت انتہا کی تھی۔صبر وشکر کرنے والی اور کم گوعزیز کی شادی بھی ایک بہت بڑے کنبہ میں ہوئی۔جوائنٹ فیملی میں بھی بہت سے لوگ دیور، جیٹھ، دیورانی ، جیٹھانی ، شادی شدہ نند ، سب کے ایک دو بچے بھی تھے۔یہ سب ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔اسی گھر میں میری بہن نے اسی ماحول میں اپنے دونوں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔الحمد للہ خود بھی دین کے کاموں میں ہمیشہ سرگرم رہی ہے۔اپنے حلقہ دارالذکر قیادت کی ایک لمبے عرصہ سے ناصرات کی سیکرٹری مال کے طور پر ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔عزیز اور منظور اس وقت گھر کے بڑے اور سر براہ ہیں اور اُن کے گھر میں بڑوں کا درجہ ماں باپ کا ہی ہوتا ہے اس لیے ہر بڑے کام کو کرنے سے پہلے ان بڑوں کا مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔میں نے لندن میں رہ کر اپنے پانچ بچوں کی شادیاں کی ہیں اور الحمد للہ پانچوں بچوں کی شادیوں میں میری بہن نے پاکستان میں رہ کر میری بے حد مدد کی۔اللہ تعالیٰ اُس کو جزائے خیر دے۔ماشاء اللہ اس کے دو بچے ہیں بیٹی حمیرا اہلیہ ناصر احمد ( ماشاء اللہ ان کے تین بچے ہیں ) بیٹا کاشف منظور احمد۔یہ سب بچے شارجہ میں رہتے ہیں۔چوتھے نمبر کی بہن بشری عنبر اہلیہ رفیق احمد صالح صاحب ہے۔بشری میری سب سے چھوٹی اور لاڈلی بہن تھی۔لیکن ہوا یہ کہ جیسے ہی اُس کی شادی ہوئی اُس کے کچھ دنوں بعد ہی اُمی ابا جان لندن آگئے۔اسطرح وہ بابل کے گھر سے پوری طرح وداع ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے جلدی جلدی چار بچوں کی ماں بھی بنا دیا۔اُس کی صحت کافی خراب رہنے لگی۔یعنی سر میں شدید درد، در دشقیقہ جو برداشت سے باہر ہو جاتی تھی۔مکرم رفیق صاحب (میرے بہنوئی ) نے وہاں کافی علاج کروایا لیکن کوئی فرق نہیں ہوا۔پھر رفیق نے اُس کو تین ماہ کیلئے لندن بھجوایا تا کہ وہ اپنے والدین کو بھی مل لے اور کوئی (299)