میری پونجی

by Other Authors

Page 295 of 340

میری پونجی — Page 295

جس کو نہ پڑھائی ، سلائی ، سنگار کسی بھی طرح کا کوئی شوق نہیں تھا۔شوق تھا تو صرف گھر کے کاموں کا اور صفائی کا۔کچے گھر تھے۔اُن کی لپائی کرنا ، دیواروں کی لپائی صحن کی لپائی ہٹی کے چولہوں کی لپائی، کپڑے دھونا۔غرض تمام وہ کام جو مشقت والے ہوں اُن کو کرنے میں مجھے مزا آتا تھا۔آپا کو ڈانٹ پڑتی تھی کہ تم بھی کوئی کام کر لیا کرو جبکہ میں کسی کو کرنے ہی نہیں دیتی تھی۔ان ساری مشقتوں کا مجھے صرف یہ ہی ایک فائدہ تھا کہ میں پھر تھک ہار کے ناول اور افسانے پڑھ سکتی تھی۔وہ نازک سی خوبصورت چھیمو جوان ہو گئی جو میری آپا ہے۔بہت نیک دین دار دعاؤں میں نمازوں میں کسی طرح کمی نہ آنے دیتی۔اُن دنوں میں حضور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ملاقات اتنی آسان نہیں ہوتی تھی۔ایک تو آپ کی ناساز طبیعت کی بھی ایک وجہ تھی دوسرے اتنے لوگ ملنے والے ہوتے تھے کہ جلدی جلدی ملاقات ہوئی مشکل تھی۔مگر میری آپا نہ معلوم کیسے ملاقات کا وقت لے لیتی تھیں۔ساتھ تبرک بھی لینا نہیں بھولتی تھیں۔آپا اب چھیمو نہیں تھیں بلکہ وہ اب سیدہ شمیم ہوگئی تھیں۔اُن کی شادی ایک بہت ہی معزز خاندان میں ہوئی۔بھائی جان بھی انتہائی مخلص، جماعتی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والے تبلیغ کا بے حد شوق ، ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں۔" آیا، حضرت خلیفہ المسح الثالث سے ملاقات کا ایک واقعہ یوں بیان کرتی ہیں : ” جب ہم پنڈی میں تھے تو شیخ صاحب کے کام کے بارہ میں بے حد پریشان تھے جب کام نہیں تو مکان بھی نہیں ہوتا تھا۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بے سروسامانی کی حالت میں تھے۔حضور کا قیام اُن دنوں مری میں تھا۔ہم ملاقات کیلئے گئے۔جب میں اندر حضور کے سامنے گئی تو بے اختیار رونے لگی۔دعا کیلئے الفاظ نہیں تھے ، پاؤں میں گر گئی۔اتنا روئی کہ حضور کا چہرہ بھی سرخ ہو گیا۔مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ۔میں بیٹھ گئی۔آپ نے مجھے اپنا رومال دیا کہ یہ رومال تم لے لو۔مجھے اتنی سمجھ نہیں (295)