میری پونجی

by Other Authors

Page 296 of 340

میری پونجی — Page 296

آئی ، میرا جواب تھا نہیں آپ رومال رہنے دیں بس دعا کر دیں۔حضور نے فرما یا رکھ لو یہ تبرک ہے۔میں نے جلدی سے پکڑ لیا۔پھر حضور نے اپنی ایک سرخ رنگ کی ڈائری نکالی اُس میں ہمارا نام لکھ لیا۔اُس ملاقات کے بعد جیسے ہماری زندگی ہی بدل گئی۔شیخ صاحب نے فیکٹری میں 25 ( پچیس سال نوکری کی۔جس نے بھی نکالنے کی کوشش کی اُس کا انجام خراب ہوا۔یہاں تک کہ ایک مخالف ہر وقت گالیاں دیتا اور کہتا تھا کہ میں تمہاری ناک کاٹ دونگا۔اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اُس کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ناک کٹ گئی۔پھر وہی کہنے لگا آپ سچے آپ کا پیر سچا۔ہمارے ساتھ اس طرح کے بے شمار واقعات ہوئے جن سے زندہ خدا کے زندہ نشانات دیکھنے کو ملے۔الحمد للہ ہمیشہ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اپنے حلقہ میں پانچ سال بہترین صدر کا سرٹیفیکیٹ ملا۔سیکرٹری تربیت اور خدمت خلق کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔اوجڑی کیمپ کا واقعہ ہوا جو بہت ہی افسوس ناک تھا۔کہتی ہیں کہ میری ڈیوٹی صدر ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال پر لگی۔پوچھتے پوچھتے میں ایک رشید نامی مریض کے پاس جب پہنچی اور پوچھا کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟ وہ بہت تلخی سے بولا تم میرے لیے کیا کر سکتی ہو یہاں جو بھی آتا ہے تصویریں بنوا کر چلا جاتا ہے۔تم عورت ہو کر کیا کر سکتی ہو؟ جاؤا پنا کام کرو۔میں نے جب بہت اصرار کیا تو کہنے لگا تین دن سے میں شدید تکلیف میں ہوں میرے کندھے کے اندر گولی ہے جس کو کوئی ڈاکٹر سنجیدگی سے نہیں لیتا۔آتے ہیں پوچھ کر چلے جاتے ہیں۔میں نے جواب دیا تم فکر نہ کرو میں تمہاری مدد کروں گی۔وہ طنزیہ مسکرایا۔میں نے اپنے ہیڈ کوارٹر اطلاع کی اور مریض کی تکلیف بتائی۔تھوڑی ہی دیر کے بعد ڈاکٹر محمود الحسن صاحب تشریف لے آئے۔اُن کو دیکھ کر ہسپتال کے تمام ڈاکٹر اکٹھے ہو گئے۔اُس مریض کا فوری آپریشن ہوا۔دوسرے دن جب (296)