میری پونجی — Page 294
میرے بہن بھائی ماشاء اللہ ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔سب سے بڑی بہن سیدہ شمیم صاحبہ اہلیہ شیخ عبدالمجید صاحب جنہیں پیار سے سب چھیمو ، کہتے تھے۔ایک مرتبہ امی نے کوئی چھوٹی سی چیز دی کہ یہ لو ساتھ والی خالہ کو دے آؤ لیکن ہاں کوئی بھی کھانے والی چیز کسی سے بھی لے کر مت کھانا ، جو بھی کھانا ہوگا وہ میں تمہیں لے کر دوں گی۔چھیمو بھاگی ہوئی ساتھ والی خالہ کو وہ چیز دے کر آگئی اور بہت خوشی سے بتایا کہ خالہ آم کھا رہی تھی مجھے دیا اور میں نے نہیں لیا امی اب آپ مجھے آم دیں۔اُمی نے کہا کہ تم کھڑکی میں سے دیکھو جب آم والا آئے گا تو مجھے بتانا۔امی جان پاس ہی کام کر رہی تھیں۔امی جان کی توجہ نہیں رہی کہ بچی کھڑکی میں کھڑی ہے۔آچانک نیچے سے شور کی آواز آئی جب باہر جھانکا تو اپنی ہی پیاری بیٹی نیچے خون میں نہائی نظر آئی۔وہ سر کے بل گری پڑی تھی اور سرکھل کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔اس کی کافی حد تک تفصیل پہلے لکھ چکی ہوں۔پندرہ دن کومہ میں رہنے کے بعد میری بہن نے جب آنکھ کھولی تو پہلا لفظ اللہ کہا۔دو ماہ ہسپتال میں رہ کر آئی۔اپنی ڈاکٹر کا نام آج تک نہیں بھولی (انگریز ڈاکٹر مس براؤن )۔الحمد للہ گرنے سے بظاہر تو کوئی اتنا بڑا فرق نہیں پڑا صرف اتنا ہوا کہ بات کرنے کی صلاحیت تھوڑی سی کم ہو گئی۔بات تھوڑی اٹک اٹک کے کرنے لگیں لیکن باقی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے مزید بڑھا دیں تعلیمی لحاظ سے مڈل تک تعلیم حاصل کر لی۔اُس کے ساتھ ساتھ جو شوق تھے وہ بہترین کپڑے کی گڑیاں بنانا، انڈوں کے خول لیکر اُن کے اندر روٹی بھر کے گڑیا کا خوبصورت منہ بنانا، اُن کے کپڑے سینا، پتوں کے اپر نیل پالش لگا کر اُن کی جیولری بنانا۔ہارسنگار کا بھی بے حد شوق تھا۔پورا دن اُس کا اِن ہی کاموں میں گزرتا۔گھر کے کاموں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی جس سے اُس بے چاری کو ڈانٹ پڑتی تھی۔اُس کی نسبت میں (294)