میری پونجی — Page 266
حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر مانگی دعا اور رؤیا کے پورا ہو نیکا وقت کہ ”جب تم بادشاہ بنو گے تو خاندانِ مسیح موعود کو نہ بھولنا“ الحمد للہ! ابا جان کو جلسہ سالانہ کے دنوں میں ایک ماہ قبل اسلام آباد جانے کا حکم مل جاتا کہ جا کر کچن کھول دیا جائے۔وہاں مختلف ٹیمیں کام کے سلسلے میں آنی شروع ہو جاتیں اور مہمانوں کی آمد بھی کافی پہلے ہی شروع ہو جاتی۔مہمان تو چند دنوں میں برکتیں اور رحمتیں سمیٹ کر چلے جاتے لیکن ابا جان اور دوسرے انتھک محنتی خادم دین لنگر خانہ میں ایک ماہ پہلے کام شروع کرتے اور ایک ماہ بعد تک انجام دیتے۔جلسہ کے تمام انتظامات کا معائنہ کرنے کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ” خود تشریف لاتے اور جائزہ لیتے خاص طور پر کچن کی صفائی اور کھانے کا معیار پر اُن کی گہری نظر ہوتی۔ابا جان کے ساتھ پنجابی میں باتیں کرتے۔ابا جان بتاتے ہیں کہ ایک دن حضور تشریف لائے تو میں سامنے نہیں تھا بلکہ اُن کے پیچھے تھا۔آتے ہی پوچھا حسن صاحب کہاں ہیں نظر نہیں آرہے۔مجھے جلدی سے آگے کیا تو حضور نے از راہ شفقت و دلداری فرمایا: د حسن صاحب آپ تو یہاں کے مڈ ہیں ، مڈ ابا جان فرماتے ہیں کہ ایک صبح حضور سیر سے تشریف لا رہے تھے تو میرا حضور کے ساتھ سامنا ہو گیا۔کہتے ہیں کہ میں نے بے تکلفی سے پوچھ لیا کہ حضور آپ چنے کھانا پسند کریں گے۔حضور نے از راه شفقت فرمایا ہاں ہاں لائیں بلکہ اپنے ساتھ چلنے والے احباب کیلئے بھی فرمایا کہ ان کو بھی دیں۔جس پر میں نے سب کو جیب سے نکال کر چنے پیش کئے۔دوسرے دن میں کاموں میں مصروف تھا کہ حضور کا پھر ادھر سے گزر ہوا تو حضور نے دریافت کیا کہ چنے والے دوست کہاں ہیں نظر نہیں آرہے۔مبارک ساقی صاحب مرحوم نے حضور کی توجہ میری طرف مبذول کروائی کہ حسن صاحب یہ کھڑے ہیں، حضور نے مجھے دیکھا اور فرمایا چنے نہیں کھلا ئیں گے؟ ابا جان فرماتے ہیں کہ میں نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چنے حضور کے ہاتھ پر رکھ (266)