میری پونجی

by Other Authors

Page 267 of 340

میری پونجی — Page 267

دیئے۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے میری اس خواب کی سچائی کو بڑی شان سے پورا کیا۔اور اس عاجز کو حضرت مسیح موعود کے لنگر خانہ میں پوری دنیا میں پھیلے خاندان مسیح موعود کی خدمت کی توفیق ملی۔مکرم عثمان چینی صاحب ابا جان چینی صاحب کے بارہ میں ایک واقعہ یوں بیان فرماتے تھے کہ : ایک بار چینی صاحب میرے پاس تشریف لائے اور اپنی مشکل بیان کی کہ کھانے میں مرچ بہت زیادہ ہوتی ہے کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ مجھے کم مرچ والا کھانا بنا دیا جائے۔ابا جان فرماتے ہیں کہ میں نے عزیزم ارشاد صاحب آف کراچی سے بغیر مرچوں کہ کھانا بنوا دیا۔جب اُن کی خواہش کے مطابق اُن کو کھانا ملا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ساتھ ہی پھر میرے پاس آئے اور دریافت فرمایا کے اس کھانے کے کتنے پیسے ہونگے؟ میں اُن کی بات سن کر حیران ہوا اور کہا چینی صاحب! یہ حضرت مسیح موعود کا لنگر ہے پیسے کیسے؟ یہ کوئی ہوٹل تو نہیں ہے۔اس پر چینی صاحب کا جواب تھا کہ نہیں ہمیں اپنے کھانے کے پیسے ملتے ہیں اور یہ جو آپ نے بنایا ہے وہ میرے کہنے پر بنایا ہے۔سو پیسے دینے ضروری ہیں۔ابا جان کہتے ہیں میں مشکل میں پڑ گیا۔آخر جب وہ نہ مانے تو میرا جواب پھر یہ ہی تھا کہ آپ اپنی تسلی کیلئے جو بھی آپ مناسب سمجھیں دفتر جا کر رسید کٹوا لیں۔لیکن اُن کی ان باتوں کا میری طبیعت پر بہت اثر ہوا اور میری دعا اور خواہش ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت میں ایسے نیک اور تقوی شعار لوگوں کی کبھی کمی نہ آنے دے۔آمین۔جلسہ کی باتیں شروع ہو گئی ہیں تو اب ان ہی یادوں کو جاری رکھتی ہوں۔کچھ پہلے لکھ چکی ہوں مزید ان سنہری دونوں کی یاد میں اضافہ ایسے کرتی ہوں کہ ابا جان تو جلسہ کی ڈیوٹی کیلئے پہلے ہی گھر سے چلے جاتے تھے۔اُن دنوں بنکوی صاحب مرحوم ، ڈار صاحب مرحوم، منصور بی ٹی صاحب مرحوم اور مظفر کھوکھر صاحب اور ان کے ساتھ بہت بڑی ٹیم کچن میں ہوتی تھی۔پھر جولوگ دن رات وہاں کام کرتے اُن کو وہاں ٹینٹ میں رہنے کی بھی سہولت ہوتی تھی۔ہمارے ابا جان کو بھی یہ سہولت خدا (267)