میری پونجی — Page 236
سے بہت کمزور ہو گیا تھا باہر آیا تو بہت لاغر ہو چکا تھا۔طبیعت کی سختی نرمی میں بدل گئی اور رجحان عبادت کی طرف مائل ہو گیا۔جیل سے شہر تک احرار کا جھنڈا اٹھائے نعرے لگاتے سٹیشن پر پہنچے۔گھر آئے تو کسی نے بھی گرم جوشی کا اظہار نہ کیا۔ہمارے گھر کے پاس امام باڑہ کی مسجد تھی۔میں نماز کے لیے اس مسجد میں جانے لگا۔وہاں ایک بزرگ جن کا نام مکرم رحیم بخش صاحب تھا، نماز پڑھنے آتے تھے۔پیشہ کے لحاظ سے راج کا کام کرتے تھے، بہت کم گو تھے۔کانوں سے اُونچا سنتے تھے۔ایک روز مجھے ظہر یا عصر کی نماز کے بعد بلا کر مسجد کے ایک کونے میں لے گئے اور کہنے لگے کہ اب تم سارا کچھ دیکھ آئے ہو۔یہ سارے شیطانوں کے ٹولے ہیں جو مختلف رنگ بدلتے رہتے ہیں۔میں تمہیں بتا تا ہوں کہ مرزا صاحب سچے ہیں ان کو مان لو! میں یہ بات سن کر حیران رہ گیا کہ خود تو مانتے نہیں اور مجھے ماننے کو کہہ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ کیوں نہیں مان لیتے۔انہوں نے کہا سنو! میں جو تمہیں بتا رہا ہوں وہی ٹھیک ہے میری بات چھوڑو۔اس پر کہنے لگے میں نے ایک خواب دیکھا ہے سن لو۔اس پر انہوں نے اپنی خواب سنائی۔تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد میری آنکھ لگ گئی۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک باغ میں ہوں۔میں نے دیکھا کہ نبیوں کے مختلف تخت لگے ہیں۔میں دریافت کرتا ہوں کہ یہ کن لوگوں کے تخت ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ نبیوں کے تخت ہیں۔میں آگے بڑھتا ہوں تو ایک بہت عالیشان تخت مجھے دکھایا گیا۔میں نے پوچھا کہ یہ کس کا تخت ہے؟ بتایا گیا کہ یہ حضرت رسول کریم صلی یا ان کا تخت ہے۔تخت کے نیچے حضرت مرزا صاحب تشریف فرما ہیں۔میں نے سلام کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ اسپر آپ نے فرمایا آپ کو نہیں علم کہ اس زمانہ میں رسول کریم صلی لا ا سکیم کے تخت کی نگرانی کرنے پر میری ڈیوٹی لگی ہے۔اس کے بعد انہوں نے میری کمر سے کرتا اٹھایا اور کمر پر ہاتھ پھیرا جس سے میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب سے مجھ پر یہ بات کھل گئی کہ مرزا صاحب سچے ہیں اس لیے تم ان کو مان لو۔(236)