میری پونجی

by Other Authors

Page 237 of 340

میری پونجی — Page 237

یہ حیران کن خواب سن کر میں مسجد سے باہر آیا تو سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ایک غیر از جماعت کا مجھے یوں کہنا ضرور سچ ہے۔چونکہ ہم انہیں بچپن سے جانتے تھے کہ وہ ایک سچ بولنے والے شخص ہیں۔وہ خاموش طبع شخص تھے اور اپنی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد جلسہ سالانہ بھی آرہا تھا میرے بڑے بھائی غلام نبی صاحب نے مجھے کہا کہ اب تم زندگی کے سارے رخ دیکھ ہی آئے ہواب قادیان چلو۔میں جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ایک تو اس خواب کا اثر تھا پھر یہ بات تو پکی تھی کہ احمدیت گھر میں موجود ہی تھی۔والدین تو تھے ہی احمدی اب تو صرف میری بھٹکی ہوئی روح کو کسی کے سپرد کرنے کی بات تھی۔بھائی غلام نبی صاحب کے ساتھ قادیان گیا۔جانے سے قبل رشتہ دار عزیزوں نے بہت روکا کہ وہاں جنت دوزخ ہے، جادو کر دیں گے وغیرہ وغیرہ۔خیر میں قادیان چلا گیا وہاں جلسہ سننے کا موقعہ ملا۔لوگوں کا آپس میں محبت پیار دیکھا۔حضرت مسیح موعود کے مزار پر گیا۔دیکھا کہ لوگ آتے ہیں دعا کر کے چلے جاتے ہیں۔کوئی پھول نہیں چڑھاتے۔کسی قسم کی کوئی بدعت نہیں۔میں نے چونکہ بڑے بڑے میلے اور عرس دیکھے ہوئے تھے اس لیے یہاں کی دنیا ی کچھ اور تھی۔جلسہ سالانہ پر بیعتوں کا وقت آیا تو اس وقت تک مجھ میں بہت تبدیلی آچکی تھی اور آخر وہاں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت پائی۔الحمد للہ۔ایک نئے دور کا آغاز میری بیعت کے بعد گھر میں ملے جلے جذبات کا رد عمل ہوا۔والد صاحب بہت خوش ہوئے اور ان کا حوصلہ بہت بلند ہوا۔لیکن وہ بھائی اور بھا بھیاں جو احمدی نہیں تھیں مخالفت میں زور دکھانے لگے لیکن سبھی میری طبیعت سے بھی واقف تھے اس لیے مخالفت زیر ز میں کرتے۔مخالفت ہمیشہ کسی سکیم کے تحت ہوتی۔گھر کی تقریبات میں اور دیگر فیصلوں میں ہمیشہ امتیازی سلوک روا ر کھتے اور یہ سلوک زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہوتا۔محلہ والوں نے بائیکاٹ کا سلسلہ شروع کر دیا۔دکانوں پر بورڈ لگا کر رکھ لیے کہ مرزائیوں کو سود انہیں دیا جائے گا وغیرہ۔(237)