میری پونجی

by Other Authors

Page 235 of 340

میری پونجی — Page 235

جب کہ خاکسارا اپنے دوستوں میں بیٹھا تھا، طعنہ دیا کہ تم خود کو اتنے پارسا نہ سمجھو کہ کبھی شراب کو چھوا تک نہیں۔خاکسار ابھی خاموش ہی تھا کہ میرے ساتھیوں میں سے ایک کھڑا ہوگیا اور اس شخص کو برا بھلا کہا اور اس نے میری صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی ایسے کاموں میں حصہ نہیں لیا۔چونکہ پوچھ کچھ کرنے والا کوئی نہ تھا بس خود کو زمانہ کی رو پر چھوڑ رکھا تھا۔اُن دنوں کشمیر موومنٹ چلی تو ہم بھی احرار جماعت میں شامل ہو گئے اور اس جلوس میں شامل ہوئے جو اسلام کے نام پر جہاد کرنے والوں کا تھا۔حکومت نے گرفتاریاں کیں تو ہم نے بھی خود کو اسلام کے نام پر قربانیاں پیش کرنے والوں میں پیش کر دیا۔تین ماہ کی سزا ہوئی۔مولوی گھروں کو چلے گئے اور ہم جیلوں میں۔میرے ساتھی بھی میرے ساتھ ہی تھے پہلے ہمیں ایک ماہ لدھیانہ جیل میں رکھا پھر لاہور بورسٹل جیل میں منتقل کر دیا گیا۔یہاں ایک بات ضمناً یاد آگئی کہ جب ہمیں جیل سے ٹرانسفر کر رہے تھے تو ہم نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے گزرے جسکی آواز ہمارے گھروں تک پہنچی۔یہ آواز سن کر عزیز واقارب اسٹیشن پر پہنچنے لگے۔پولیس ہمیں کہتی کہ نعرے مت لگاؤ۔ہم نے کہا نعرے تو لگیں گے۔جس کی خاطر ہم یہاں آئے ہیں اب اس کی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم نعرے بھی لگائیں۔اسٹیشن پر مجھے ملنے کے لیے صرف میری بہن سکینہ آئی۔میں نے سن رکھا تھا کہ بہنیں بھائیوں کے لیے بے چین ہو جاتی ہیں اس دن اس صداقت کا سورج طلوع ہوتے دیکھا۔خیر ہم جیل بھیج دئے گئے۔تھوڑے عرصہ بعد ہماری ضمانتوں کی کوشش کی گئی لیکن خاکسار نے باہر آنے سے انکار کر دیا۔میرے ساتھی جیل کی سلاخوں سے لپٹ لپٹ کر رویا کرتے اور مجھے کہتے تھے کہ تمہاری وجہ سے ہم جیل بھگت رہے ہیں ورنہ آج ہم آزاد ہوتے۔رمضان المبارک انہی ایام میں آ گیا۔چونکہ میری صحت خدا کے فضل سے بہت اچھی تھی۔میں نے روزے رکھنے کا ارادہ بھی کر لیا۔صبح سحری کے وقت جو کھانا دیا جاتا نہایت بدمزہ ہوتا۔روٹی میں سری کے سوسو دانے نظر آتے۔مگر مجبوری تھی، الحمد للہ رمضان کے پورے روزے رکھے ، جیل کی مشقت اور روزوں سے جسمانی لحاظ (235)