میری پونجی

by Other Authors

Page 215 of 340

میری پونجی — Page 215

چھوٹی بہن چھٹی جماعت میں تھی۔جب میری بہن واپس قادیان اپنے شوہر کے پاس چلی گئیں تو ہمارے لیے رہائش کا مسئلہ در پیش ہوا، کوئی بڑا نہیں تھا جس کے پاس ہم رہ سکتے۔ہماری خالہ کے بچے آپ کی امی کے بھائی کے بچے تھے آپ کی امی ان کی پھوپھی لگتی تھیں اور ہم نے بھی پھوپھو ہی کہنا شروع کر دیا۔وہ ہمارے ساتھ بہت محبت کرتیں اور ہمیں اپنے بچوں کی طرح ہی سمجھتی تھیں۔جب اُن کو علم ہوا کہ ہماری بہن کے قادیان جانے کے بعد ہمیں رہائش کی مشکل ہے تو پھوپھی جان ہمیں اپنے گھر لے گئیں۔پھوپھا جان یا اور کوئی مرد تو گھر میں تھا نہیں کہ ہمیں پردے کی کوئی مشکل ہوتی سو ہم دونوں بہنیں ان کے گھر چلی گئیں۔پھوپھی جان نے ہمارا ہر طرح سے خیال رکھا۔وہ ہمیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کرتیں اُن کو ہمیشہ یہ خیال رہتا کہ ان کی ماں ان کے پاس نہیں ہے ، ہماری ہر خوشی کا خیال رکھا۔جب ہم سکول جاتے تو پہلے ہمیں ناشتہ دیتیں بعد میں اپنے بچوں کو دیتیں۔وہ بہت حساس ہمدرد پیار کرنے والی خاتون تھیں۔ہم ان کا پیارا اور خلوص کبھی بھی نہیں بھول سکتے۔“ یہ بھی ربوہ میں شروع ایام کی ہی بات ہے۔غربت تو ہم سب کے ارد گر د تھی مگر پھر بھی جو احاطہ کے سامنے ہمارا ایک کمرے کا کچا سا گھر تھا (جو اُس وقت کے لحاظ سے تقریباً ڈھائی تین سوروپے میں خریدا تھا ) چھوڑ کر اس سے نسبتاً بہتر گھر میں منتقل ہو گئے۔اسی دوران میرے ایک ماموں گجرات سے اپنی نئی نویلی دلہن کو لے کر ربوہ پہنچ گئے۔رہنے کوکوئی جگہ نہ تھی اور کوئی کاروبار بھی نہ تھا، وہی گھر میری امی جان نے ان کو دیا اور انہوں نے وہاں دودھ وغیرہ کی دوکان کھول کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔میرے ماموں اور ممانی امی جان کے ہمیشہ شکر گزار رہے ہیں کہ ہماری بہن ہمیشہ ہماری مشکل گھڑی میں کام آئیں۔میری امی بہت ذہین و فہیم تھیں ، انسان کو دیکھ کر اس کی شناخت کرلیتیں۔علم دوست تھیں۔میری (215)