میری پونجی

by Other Authors

Page 214 of 340

میری پونجی — Page 214

کر دے جاتے۔نام کی طرح دل کی بھی بہت علیم تھیں، دکھ تو کسی کا بھی برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔انکی انسان دوستی اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کے کچھ واقعات لکھتی ہوں۔ہمارا گھر دار البرکات میں جامعہ احمدیہ کے سامنے تھا۔ہم ابھی وہاں نئے ہی تھے، ہمارے گھر کے سامنے جامعہ کی عمارت بن رہی تھی اور ساتھ جامعہ کی چار دیواری بھی زیر تعمیر تھی۔کام کرنے والے مزدور دو پہر کو کھانے اور سستانے کے لیے اس چھوٹی سی دیوار کے سائے میں آکر بیٹھ جاتے تھے۔ایک دن سخت گرمی کے دن دو پہر کو ہماری امی کو کسی مرد کے رونے کی آواز آئی پہلے تو امی کھڑکیوں میں سے خود ہی دیکھنے کی کوشش کرتی رہیں مگر جب کوئی نظر نہ آیا تو میرے بھائی خالد کو امی نے کہا کہ جاؤ جا کر دیکھو کہ کون ہے اور کیوں رورہا ہے؟ خالد گیا اور آکر امی کو بتایا کہ ایک مزدور رو رہا ہے۔اس کے گردے میں شدید تکلیف ہے اور وہ ہل نہیں سکتا۔امی نے اپنے صحن کے اندر دیوار کے ساتھ جہاں سایہ تھا وہاں چار پائی ڈالی ، میری دونوں بہنیں جو ابھی بہت چھوٹی تھیں اور خالد ، تینوں اس مزدور کو سہارا دیکر گھر لائے۔امی نے اسکو خربوزوں کے چھلکوں کا پانی ابال کر دیا اور مجھے یاد نہیں کہ کیا دوائی دی ہوگی مگر یہ یاد ہے کہ شام تک وہ مزدور جو کسی ساتھ والے گاؤں سے آیا ہوا تھا، امی جان کو دعائیں دیتا ہوا گھر گیا۔یہ بھی ربوہ میں شروع دنوں کا واقعہ ہے۔ہم ربوہ میں چھوٹے سے ایک کمرہ کے گھر میں رہتے تھے ،ساتھ میں ایک چھوٹا سا کچن تھا۔اس گھر میں ہم پانچ بہن بھائی اور امی سمیت چھ افراد کا کنبہ رہتا تھا۔میری ممانی کی بہن کی دو بیٹیاں جو سیالکوٹ سے ربوہ تعلیم کی غرض سے آئی ہوئی تھیں ان کو گھر لے آئیں ، اب میں ان دونوں بہنوں کے تاثرات لکھتی ہوں۔وہ کہتی ہیں: ” ہم دونوں بہنیں ربوہ میں اپنی بڑی بہن کے پاس جو کہ درویش کی بیوی تھیں ، پڑھنے کیلئے سیالکوٹ سے آئی تھیں۔میں ساتویں جماعت میں تھی جب کہ میری (214)