میری پونجی — Page 45
لیا پریس کے مقامی اخبارات کے علاوہ ملک کی روایات کے آئینہ دار اخبار ٹائمز ، ڈیلی ٹیلیگراف اور مارنگ پوسٹ نے بھی حضور کی آمد کی وجہ سے وسیع پیمانے پر پورے انگلستان میں عوام کے سامنے ہمارے مشن کا تعارف کر وا دیا اور ان اخبارات کی بدولت دوسرے مغربی ممالک میں بھی حضور کی آمد کی خبر اور جماعت کا تعارف پہنچ گیا۔خاص طور پر کانفرنس کے موقع پر جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے پڑھے گئے مضمون کی مقبولیت ہوئی۔اسکا اندازہ بعد میں حضور سے ملنے والوں کے والہانہ اشتیاق اور ہجوم سے لگتا ہے جو اپنی مثال آپ تھا۔اس موقع کا آنکھوں دیکھا تبصرہ حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی کتاب تحدیث نعمت میں کیا ہے کہ کیا نظارہ تھا۔اسکے علاوہ حضور کے قیام کے دوران جن جن افراد کو ملاقات کا موقع ملا ان پر حضور کی شان، مرتبہ اور مقام کا جواثر ہواوہ دیر تک قائم رہا۔“ ویمبلے کا نفرنس کے موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے ساتھ جو یادگار تصویر اتاری گئی تھی اس میں حضرت سردار مصباح الدین صاحب، حضور کی دائیں جانب حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے درمیان کھڑے ہیں۔تاریخ احمدیت جب مرتب کی جارہی تھی تو اس یاد گار گروپ کے ممبران کی نام بنام پہچان میں محترم سردار صاحب نے مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد ، مورخ احمدیت کی مدد فرمائی۔مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا اس موقع پر لنڈن تشریف لا کر ویمبلے کا نفرنس میں شرکت فرما نا اس لحاظ سے بھی بابرکت ثابت ہوا کہ اسی دوران حضور کے مرکز سے آنے اور اپنے ہاتھ سے لنڈن مسجد کا سنگ بنیا درکھنے کا تاریخی واقعہ ظہور میں آگیا۔اس تقریب سے دور رس اثرات مرتب ہوئے جبکہ اس تقریب میں بعض ممالک کے سفراء اور پبلک کے مؤثر اور نامور مشاہیر شامل ہوئے اور پریس (45)