میری پونجی — Page 44
ہے اس وقت حضرت نیر صاحب کے سامنے ہی آیا کہ اسلام کی نمائندگی جیسے اہم موقع کیلئے خود ان سے یا انکے ساتھیوں سے کہیں بہتر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا وجود ہے اس لیے تجویز ہوئی کہ کانفرنس کے منتظمین سے کہا جائے کہ وہ حضرت امام جماعت احمدیہ کو دعوت دیں۔یہ ہمارے دل کی آواز تھی اسکے بارے میں یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ اپنے رفقاء سے بھی مشورہ ہونا چاہئے۔مشورہ لیا تو بعض کی رائے موافق نہ پائی گئی۔اس تجویز کے حق میں چونکہ ہم دو دیوانگی کی حد تک قائم تھے اور ادھر تصرف الہی بھی کام کر رہا تھا اس لیے ہمارے رفقاء کی اکثریت ہماری مؤید ہو گئی اس طرح فرزانگی مات کھا گئی۔تاریخ بتلاتی ہے کہ بعض اوقات دیوانگی ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیتی ہے کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے بالکل ایسا ہی کانفرنس کے موقع پر ظہور میں آیا جس کے نتیجہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں دعوت بھیجنے کی تجویز کا فیصلہ ہو گیا۔ادھر مرکز نے بھی یہاں سے کچھ معلومات حاصل کیں جس سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی انگلستان آنے کی تفصیلات طے پاگئیں۔لندن میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کاور و دمسعود مورخہ 22 / اگست 1924ء کو جماعت احمدیہ کے اولوا العزم خلیفہ نرالی شان سے اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ لنڈن تشریف لائے جہاں انکے استقبال کیلئے حضرت مولوی عبد الراحیم نیز مشنری انچارج ، حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب ، خاکسار سردار مصباح الدین، مکرم غلام فرید صاحب، اور 300 کے قریب احباب وکٹوریہ اسٹیشن پر موجود تھے۔حضور کی آمد سے قبل پبلک اور پریس میں اسکا کھل کر تذکرہ ہو چکا تھا۔اس لیے جو نہی آپ نے مسیحی شان سے اس ملک میں قدم رکھا تو پریس پہلے ہی منتظر تھی۔آپ کی آمد پریس کی خاص توجہ کا مرکز بنی۔استقبال میں کئی معزز شخصیات نے حصہ (44)