میری پونجی — Page 309
یکسوئی ہے۔اُس مہمان سرا میں جن نعماء کو ہم اپنا حاصل سمجھا کرتے تھے وہ سب کچھ ہیں۔مگر وہ ویسی نہیں۔وہ نور علی نور ہیں۔بس اُسی کی عطا ہیں، جس نور پر ہم فدا ہیں۔یہاں فدائیت کا بھی ایک اور ہی عالم ہے۔جس کا مزہ بھی کچھ اور ہے۔جب بھی پری بن کر تمہارے خوابوں میں اتر آیا کروں۔وہ سب کچھ پوچھ لیا کرو۔ڈھیروں باتیں ہیں اور اب تو میں تم سب کو بھی میں ڈھیر ہی لگتی ہوں ہٹی کا ڈھیر۔مگر مٹی کا ڈھیر لگنے کی بات اور ہے اور حقیقت کچھ اور۔میں تو اُس سویرے کی ایک نہلائی ہوئی کرن ہوں جو ایک پھیلتی ہوئی روشنی ہے۔تم بھی تو اُسی کرن کی روشنیاں ہو۔تمہارے خالو تمہیں ملنے آئے تھے۔وہ ان چٹانوں کی اوٹ میں بھی آئے تھے۔جن کی کوکھ میں اب میری سراء گاہ ہے۔مجھے سلام کرنے آئے تھے۔اُن کا سلام جب میری روح تک پہنچا تو میں خوشی سے اچھل پڑی اور پکاری ؛ یہ سلام کس نے آکھیا ہے۔اس سلام نے میرے درجات کو اُوپر اُٹھا دیا تھا۔تمہارے خالو دونوں ہاتھ اُٹھائے جانے کیا مانگ رہے تھے۔مگر مجھے ساتھ ساتھ ملتا جا رہا تھا۔اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے جو میری روح کو سیراب کر رہے تھے۔اُسوقت میری روح میں بھی ایک ہلچل تھی۔کہنے ہی والی تھی۔ہم مرگئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر لیکن نہ کہہ سکی۔آخر اتی دور سے سمندروں کو چیرتے ہوئے ، ہواؤں کے دوش پر اڑتے ہوئے میرے ہی لیے تو آئے تھے تو میں پھر اُن سے ایسا کیوں کر کہتی۔(309)