میری پونجی — Page 303
کیا۔جہاں پھر غنچے کھلے، ہوا چلی، تازہ چمن ہوئے نرگس، گلاب و یاسمین، گل نسترن ہوئے انسانی زندگی اتار چڑھاؤ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔اس کی زندگی میں بھی یہ سب کچھ تھا مگر گردشوں کو صبر وتحمل اور توکل کی مضبوط چٹان بن کر اُن کا رخ موڑ دیا کرتی تھی۔اس کی نیکیوں اور حسن سلوک کی باتوں کو اگر موضوع بنایا جائے تو یہ بیان طویل ہو جائے گا۔اس لیے اختصار کا سہارا لے کر اس کی زندگی کی شام سے شروع کرتا ہوں۔وہ جب بستر مرگ پر تھی۔اپنی بیماری کی نوعیت سے پورے طور پر آگاہ تھی۔اُس نے اپنی بہنوں (صفیہ بشیر سامی ، امتہ العزیز منظور ) سے کہا؛ مجھے جانا تو ہے ہی، آخر سبھی کو جانا ہے۔مجھے بچوں کے متعلق میرے شوہر رفیق نے کہہ رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد تیری نگہداشت میں ہیں۔اب جبکہ میری آگے جانے کی تیاری ہے۔میں کس منہ سے انہیں کہوں کہ ان بچوں کا اب آپ نے خیال رکھنا ہے۔اس لیے میں آپ بہنوں کو بھی نہیں کہتی کہ آپ خیال رکھنا۔(اگرچہ آپ خیال رکھیں گی ) لیکن میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں کیوں نہ اپنے بچوں کو اس کے حوالے کر کے جاؤں جس نے مجھے دیے ہیں۔اُس کی زندگی کی آخری صبح تھی۔اُسے علم تھا کسی بھی لمحہ بلا وا آ جائے گا کہ اُس کی ممانی جو کہ اُس کی ساس بھی تھیں، کا انتقال ہو گیا۔یعنی اس کے شوہر رفیق کی والدہ ماجدہ فاطمہ بیگم صاحبہ۔اس حالت میں بھی اس کے صبر و ہمت کا اندازہ کرنا مشکل ہے جبکہ وہ اپنے شوہر کو اور اپنی چھوٹی بیٹی بینا کو اپنی ساس کے جنازے کے ساتھ ربوہ جانے کیلئے خدا حافظ کہ دیتی ہے۔اور۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔۔پہلا جنازہ ربوہ پہنچ چکا تھا۔ادھر دن ڈھلا اُدھر اُس کی زندگی کی بھی شام ہوگئی اور وہ اس شام کے دھند لکے میں رخصت ہو گئی۔اُس کے پاس اُس وقت اُس کی بہن امتہ العزیز ، بیٹا شمر اور عمر اور (303)