میری پونجی — Page 304
بیٹی سعدیہ موجود تھی۔اس کا جسم خاکی ہسپتال میں پڑا تھا۔خاندان میں سے کوئی بھی بڑا مرد وہاں موجود نہ تھا۔سبھی ربوہ جاچکے تھے۔اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے اُسے لاوارث نہیں چھوڑا۔جماعت احمدیہ کے نظام کی برکت اللہ تعالیٰ کی مدد سہارا بن کر ظاہر ہوئی۔اسلام آباد کی بہن صادقہ خالد صاحبہ نے لجنہ اور جماعت کے تعاون سے رات رات میں اس کی پالکی سجا کر صبح ہوتے ہی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ربوہ روانہ کر دی۔اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کے پاس کن کن راہوں سے آتا ہے اور اپنی ربوبیت اور موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔زندگی بھر موصوفہ نے اپنوں اور بیگانوں کی خدمت میں ہی راحت پائی تھی۔آج دم آخر بھی اس نے اپنا فرض ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور وہ حق ادا کر دیا جس کیلئے زندگی میں انسان کہہ دیتا ہے۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا مگر جانے والی نے حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر دیا اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ میں خود بھی کچھ لمحوں کی مہمان ہوں، میرا خاوند پاس نہ ہوا، میری نھی بیٹی میرے پاس نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ اللہ اللہ اللہ تعالیٰ کے سہاروں پر چلنے والے کیسے کیسے اپنی پہچان چھوڑ جاتے ہیں۔اس کی بیماری جبکہ حد سے بڑھ چکی تھی اُس کا واحد بھائی محمد اسلم خالد لندن سے اُسے ملنے کیلئے حاضر ہوا۔بشری نے اُسے اپنی خواب سنائی۔وہ خواب اُسکی زندگی کا خلاصہ ہے ، اُس کی زندگی کا مطلوب ہے اور اُس کی زندگی کا حاصل۔اس خواب کے بیان سے بڑھ کر مجھ جیسا انسان ذکر خیر کیلئے اور کیا الفاظ تراشے گا۔وہ بیان کرتی ہیں کہ اُس نے خواب میں دیکھا: ایک شیشے کا جار (مرتبان ) ہے جو کہ سامنے دکھائی دے رہا ہے اور میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔جار او پر کو چلا جاتا ہے۔میں نے پھر روزہ رکھا، تو جار پھر سے اوپر چڑھ جاتا ہے۔اس پر میں نے کہا اللہ میاں جی ! میں نے اتنی تضرعات کیں اور تو نہیں (304)