میری پونجی — Page 302
مجھے یادوں کے حسین سفر پر لے جاتے ہیں بشری کی شادی ہوئی اور اپنے پیا کے گھر گئی۔اُس نے پوری کوشش کی کہ اپنے سسرال والوں کا دل جیت سکے اور اس میں کامیاب رہی۔اللہ تعالیٰ نے بہت ہی پیارے چار ڈلاروں سے نواز امگر خود زندگی کی بازی ہار گئی۔اُس کے غم میں میں نے اپنی ماں کو پگھلتے دیکھا اور اپنے باپ کو اپنی بیٹی کے غم میں گھلتے دیکھا ہے۔ہم سب اُس شدید بیمار بچی سے بہت دور تھے۔یہاں سے سب کا جانا بھی اتنا آسان نہیں تھا۔ایک بار خالد ملنے گیا پھر سامی صاحب نے مجھے تیار کیا کہ جاؤ اپنی بہن کومل آؤ۔میں ایک ماہ اُس کے پاس رہ کر آئی۔بہت باتیں کیں ، دل کی باتیں پرانی اور نئی باتیں۔اتنی تکلیف میں بھی میرا خیال رکھتی۔سامی صاحب کا شکریہ ادا کرتی کہ بھائی جان نے آپ کو میرے لیے بھیجا ہے۔میری بہن عزیز کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے کہ اُس نے اپنی بہن کی بہت بہت خدمت کی۔اپنا گھر اور بچے چھوڑ کر اُس مشکل وقت میں اُس کے بچوں کا سہارا بنی۔بشری نے آخری سانس بھی اپنی بہن کے بازوؤں میں ہی لی۔زیادہ کیا لکھوں بس سامی صاحب کا وہ مضمون جو اُس کی وفات پر انہوں نے لکھا تھا وہ لکھ دیتی ہوں: مکرمہ بشری رفیق صاحبه نسبت دور کی ہو یا نزدیک کی نسبت ہی ہوتی ہے۔وہ تو تھی بھی میری نسبتی بہن یعنی مکرم رفیق احمد صالح صاحب آف اسلام آباد کی اہلیہ، مکرم شیخ محمد حسن صاحب لدھیانوی آف لندن کی بیٹی بشری بیگم جس نے لمبے عرصے تک کینسر جیسی موذی مرض سے جنگ کی اور بالآخر 29 ستمبر 1997ء کو عازم ملک عدم ہوئی۔اس صابرہ شاکرہ کا ذکر خیر مجھ پر واجب ہے۔اس لیے بھی واجب ہے کہ میرے ساتھ اس کا قلمی رشتہ بھی تھا۔موصوفہ نے نصرت گرلز کالج ربوہ سے تعلیم و تربیت پائی اور ان تمام شمائل حسنہ سے خود کو سجایا جو اس مکتب کا خاصہ ہیں۔پھر شادی کے بعد اپنی شگفتہ مزاجی ، فراخ دلی سے، مزاح سے اور مزاح کی گہرائی سے اپنے مجازی خدا کے گھر کے درودیوار کو آراستہ پیراستہ (302)