میری پونجی

by Other Authors

Page 24 of 340

میری پونجی — Page 24

مضمون کی نوک پلک ٹھیک کر کے تھوڑی سی شاباش سے مجھے مضمون واپس کر دیا۔میں نے الفضل انٹرنیشنل کو پوسٹ کر دیا اور میرا امضمون چھپ گیا۔سچ پوچھیں، مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔شدت سے یہ خیال آتار با کاش سامی اس مضمون کو پڑھتے ، ان کے سامنے تو خط بھی مشکل سے لکھتی لکھتی بھی تو کئی جگہ اصلاح کرتے اور اب ان کی جاہل صفیہ کا مضمون الفضل میں چھپا تھا۔پھر حوصلہ بڑھا اپنی مرحومہ امی جان کے متعلق لکھا، وہ الفضل ربوہ پاکستان میں چھپ گیا۔پھر ابا جان پر لکھا وہ بھی چھپ گیا۔الحمد للہ میرے مضمون ربوہ الفضل میں اور اخبار احمد یہ اور مصباح اور اب النصرت میں بھی چھپ چکے ہیں۔جب بھی میرا مضمون کہیں چھپا مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ میں نے لکھا ہے۔لکھنا نہیں آتا، ترتیب نہیں ہوتی بے ربط سا لکھ کر بھیج دیتی ہوں۔چھاپنے والوں کا شکر یہ ادا کرتی ہوں کہ اُس کوسنوار دیتے ہیں اور میری حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔یہ سب کچھ لکھنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں بڑی عالمہ فاضلہ ہو گئی ہوں۔بلکہ یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اگر مخلص رہنما مل جائیں تو مجھ جیسی ان پڑھ کو بھی دل کی بات کرنی آجاتی ہے۔سب سے پہلے میں یہ لکھنا چاہتی ہوں اگر بفضل الہی زندگی کا ساتھی اچھا مل جائے اور آپ کچھ بھی نہیں ہیں تو پھر بھی آپ بہت کچھ بن جاتے ہیں اور اگر آپ کی زندگی کا ساتھی اچھا نہیں تو آپ بہت کچھ ہو کر بھی کچھ نہیں بن پاتے۔یہی میری زندگی کی کہانی ہے۔آج میں پہلے اپنے والدین کا شکریہ ادا کروں گی جن کی بدولت میں ہوں، پھر سامی صاحب مرحوم کو دعا دیتی ہوں جنہوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔آج جو یہ کتاب لکھنے کی میں ہمت کر رہی ہوں وہ بھی سامی صاحب کا دیا ہوا سبق ہے کہ کبھی بھی ہمت مت ہارو۔جو کرنا ہے، اللہ کا نام لیکر ضرور کر واللہ تعالی برکت ڈالے گا اور مدد بھی کرے گا۔اسی بھروسے پر یہ بیڑا اٹھایا۔کوشش کی ہے کہ اپنے بچوں اور نسلوں کے لیے کچھ لکھ جاؤں۔یہ کتاب اگر چہ کوئی تاریخی دستاویز نہیں ہے تاہم (24)