میری پونجی

by Other Authors

Page 23 of 340

میری پونجی — Page 23

31 جولائی 2001ء کو سامی صاحب کی وفات کے کچھ عرصہ بعد میری بہت خواہش تھی کہ کوئی سامی صاحب کے بارے میں لکھے۔ایک دن اسی موضوع پر محترم مکرم مولا نا لئیق احمد طاہر صاحب سے بات ہو رہی تھی۔فرمانے لگے کہ آپ خود لکھیں آپ سے زیادہ اُن کے بارے میں کون لکھ سکتا ہے۔میرا جواب تھا کہ مجھے تو لکھنا نہیں آتا میں کیسے لکھوں، آپ نے مجھے جواب دیا آپ دل کی بات لکھ دیں میں اُسکو ٹھیک کر دونگا۔فون بند کر کے بہت روئی کہ میں کیسے لکھوں۔میں تو ایسی نابلد ہوں کہ اپنا نام بھی ٹھیک سے لکھنا نہیں جانتی۔یہ خیال آتا رہا کہ سامی تو تھوڑے سے تعلق والے مرحومین کے لیے بھی دعا کی خاطر کچھ نہ کچھ ضرور لکھتے تھے، مجھے تو محبوب جیون ساتھی کے بارے میں لکھنا ہے۔اپنی نا اہلی اور بے بسی پر بہت دکھی ہوتی تھی۔پہلی مرتبہ اپنے ان پڑھ ہونے کا افسوس ہوا ، آخر میں اللہ کا نام لیکر کمپیوٹر پر لکھنے بیٹھ گئی ، مجھے اس کا استعمال بالکل نہیں آتا تھا۔پھر میرے بیٹے نے مجھے کچھ سمجھایا اور میں نے کوشش شروع کی۔جذبات کا یہ عالم تھا کہ یہ جملہ لکھنا کہ سامی صاحب کی وفات ہوگئی اور وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، میرے لیے بہت مشکل تھا۔صرف سامی لکھتی اور آبدیدہ ہو جاتی۔کبھی زار و قطار رونے لگتی مگر ہمت نہیں ہاری۔تین ماہ کے عرصہ بعد ایک دو صفحےلکھ کر میں نے محترم مولانا لئیق احمد طاہر صاحب کو پوسٹ کر دیے۔دوسرے دن ہی اُن کا فون آیا کہ یہ تو آپ نے اُن کی میڈیکل رپورٹ لکھی ہے۔پھر مجھے اُنہوں نے سمجھایا کہ کیسے لکھنا چاہئے۔اس دوران مجھے اپنے جذبات پر قابور رکھنے اور کمپیوٹر پر لکھنے کی کچھ نہ کچھ مشتق ہو گئی تھی۔جو بھی مجھ ان پڑھ کی سمجھ میں آیا لکھتی رہی۔ایک سال کی محنت کا ما حصل اپنے ماموں زاد بھائی جان عبد الباسط صاحب کے پاس لے گئی کہ وہ چیک کر لیں ، میں نے اُن سے ایک درخواست کی کہ میرے سامنے نہیں، میرے بعد پڑھیں۔دل میں بہت شرمندہ ہی تھی۔نہیں جانتی میں نے کیا لکھا ہے۔کچھ دنوں کے بعد بھائی جان نے اُس (23)