میری پونجی

by Other Authors

Page 249 of 340

میری پونجی — Page 249

میں نے سپاہیوں کو آپس میں باتیں کرتے سنا کہ یہ کیسا مجرم آیا ہے جو ہماری روٹیاں کھا گیا ہے اور اب پلنگ پر سویا ہوا ہے۔یہاں پر تو ہر آنے والے کی تھوڑی بہت مرمت کرنا پڑتی ہے۔یہ تو کوئی خاص ہی مجرم ہے۔دراصل یہ سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے انتظامات تھے۔الحمد للہ۔اگلے روز میرے بڑے بھائی مجھے چھڑانے کیلئے تشریف لے آئے۔تھانیدار نے مجھے پوچھا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی خاکسار نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور گھر کو چل پڑے۔جب ہم تانگہ پر سوار ہو کر گھر آ رہے تھے تو دوسری جانب سے تانگے پر ایک وفد دیکھا جسے میرے خلاف تیار کیا گیا تھا جو یہ ثابت کرنے جارہے تھے کہ ہمارا تعلق ڈاکوؤں سے ہے اور اس کو کسی صورت نہ چھوڑ ا جائے۔میری واپسی دیکھ کر انہیں بہت مایوسی ہوئی۔جب مجھے پولیس پکڑ کر لے گئی تو خاکسار کے والد جنہیں ہم سب چاچا کہا کرتے تھے اپنی نوبیاہتا بہو ( خاکسار کی اہلیہ) کے پاس گئے اور کہنے لگے۔بہو دعا کرو معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ہے۔زیور چوری کا نکلا ہے۔اس پر خاکسار کی بیگم نے جواب دیا کہ مجھے تو کوئی فکر نہیں چونکہ میں نے خواب میں ( یعنی اس عاجز کو ) اچکن اور پگڑی میں دیکھا ہے اور یہ عزت کی نشانی ہے اور بعد میں آنے والے حالات نے باعزت بری ہونے کی تعبیر ظاہر کر دی۔الحمد للہ۔دار البیعت کی چھت ڈلوانا ہمارے گھر سے دار البیعت ( جہاں حضرت مسیح موعود نے پہلی بیعت لی ) قریباً کم میل کے فاصلہ پر تھا۔اس وقت مولوی برکت علی صاحب لائق ہمارے علاقہ کے مبلغ سلسلہ تھے۔دارالبیعت کی چھت خستہ حالت میں تھی۔نئی چھت ڈلوانے پر میری ڈیوٹی لگی۔مستری جوں ہی چھت ڈالنے کی کوشش کرتا پڑوسی کام رکوا دیتے۔خاکسار سائیکل دوڑاتا ہوا مولوی برکت علی صاحب کے پاس گیا۔اُن کی جان پہچان والا ایک شخص رمضان نامی کونسل میں کام کرتا تھا۔آپ اسے ساتھ لے کر آئے۔اُس نے پڑوسی کو سمجھایا کہ چھت ڈالنے دو اور فساد نہ کرو جس پر وہ مان گیا۔(249)