میری پونجی

by Other Authors

Page 248 of 340

میری پونجی — Page 248

بھا گا گیا اور چار پائی اٹھالا یا پھر خیال آیا کہ اس پر بستر بھی ہونا چاہے جس پر کہیں سے گڈا اور تکیہ لے کر آیا۔اس طرح آپ کا سفر قدرے آرام سے گزرا۔جو آپ نے مجھے دعائیں دیں اس کے آگے چار پائی اور گدہ کیا چیز ہے۔اس اظہار سے ہی شرمندہ ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے اس عاجز اور آپ کی تمام اولاد کو آپ کی دعاؤں کے فیض سے نوازتا چلا جائے۔میری اہلمی اور دشمن کے ارادوں کی ناکامی میری شادی کو ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ ایک عجیب واقع پیش آیا۔میری غیر از جماعت بھابی کا بھائی چوری کا سونا لایا جس کا مجھے کچھ علم نہ تھا۔اسے سنار کے پاس بیچنے کیلئے کسی کی ضمانت چاہئے تھی۔میرے بڑے بھائی نے مجھے اس کے ساتھ جانے کو کہا۔سنار نے سونا دیکھتے ہی کہا کہ یہ چوری کا ہے۔میں نے کہا ایسا تو نہیں ہو سکتا جس پر سنار نے کہا اگر آپ ضمانت دیتے ہیں تو میں لے لیتا ہوں۔خاکسار نے اعتماد میں دستخط کر دئے۔تقریباً ایک ہفتہ بعد تحقیق ہونے پر علم ہوا کہ سونا واقعی چوری کا تھا۔سنار نے میرا نام بھی پولیس کو دے دیا اور تھانے والوں نے میری ضمانت کی وجہ سے مجھے پکڑا اور پولیس مجھے گرفتار کر کے لے گئی۔احمدیت کے تمام مخالفین کو خوشیاں منانے کا موقع مل گیا۔چور کو حوالات میں بند کر دیا گیا اور مجھے رات تھانہ میں گزارنا پڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی حفاظت میں ہی رکھا اور کوئی تکلیف نہ ہو نے دی بلکہ آرام کے سامان فرمائے۔تھانہ کے سپاہیوں نے پوچھا کیوں بھائی کیسے آنا ہوا کیا جرم کیا خاکسار نے وجہ بتائی اس پر کہنے لگے کچھ کھایا پیا بھی ہے یا نہیں۔خاکسار نے کہا ابھی تو کچھ نہیں کھایا اس پر کہنے لگے وہ ہنڈیا بنی ہے خود ہی کھانا ڈالو اور کھاؤ۔خاکسار نے اللہ کی نعمت جانتے ہوئے کھانا کھایا۔پھر سپاہی پوچھنے لگے کہ کیوں بھائی شہری ! لیٹنا کہاں ہے؟ خاکسار نے جواب دیا آپ جہاں کہیں گے سو جائیں گے۔اس پر کہنے لگے وہ ایک نواڑی پلنگ چوری کا آیا ہوا ہے اس پر سو جاؤ۔خاکسار نے اس کو بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت جانا۔(248)