میری پونجی

by Other Authors

Page 234 of 340

میری پونجی — Page 234

دعوی سے قبل ہی منشی احمد جان صاحب کی وفات ہوگئی لیکن آپ کے مریدوں نے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ پر شرف بیعت حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود کی زندگی میں یا اس کے بعد کسی وقت والد صاحب نے احمدیت قبول کی۔اس کا با قاعدہ ریکارڈ موجود نہیں والدین ہماری ہوش سے بہت پہلے احمدیت قبول کر چکے تھے۔ہماری والدہ بچپن میں وفات پاگئیں اور اب والد صاحب کے ساتھ کثیر تعداد بچوں کی رہ گئی۔احمدیت کی مخالفت، بچوں کی شادیاں اور دیگر پریشانیاں درمیان میں حائل ہونے لگیں۔بچوں کی شادیاں غیر از جماعت گھرانوں میں ہوئیں۔ہم اس ملے جلے ماحول میں آگے بڑھنے لگے۔بچوں کی شادیوں سے گھر کا شیرازہ بکھرنے لگا۔والد صاحب کی طبیعت بہت نرم تھی جس کا جدھر دل چاہا اس نے وہی راہ اختیار کی۔ہمارے بڑے بھائی جو کہ خود احمدی ہو چکے تھے لیکن شادی غیر از جماعت میں ہوئی۔اسی طرح ایک اور بڑے بھائی نے احمدیت قبول نہ کی بلکہ لوگوں کے زیراثر مخالفت بھی کرتے رہے۔اس طرح ہم چھ بھائیوں میں سے تین احمدیت کی طرف آگئے اور تین غیر از جماعت کی طرف چلے گئے۔بہنوں کی شادیاں بھی غیر از جماعت لوگوں میں ہوئیں۔لیکن ہماری ایک بہن نے فارم بیعت پر کر کے بھجوادیا تھا لیکن مخالفت والے گھر میں بیاہی گئیں اس لیے ان کی ساری اولا ددوسری جانب چلی گئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔مجھے بیعت کی تو فیق ملنا غالباً ۱۹۳۰ء کی بات ہے ملک میں کئی قسم کی تحریکات چل رہی تھیں۔میری طبیعت بھی جو شیلی تھی۔ہر جلسے جلوس میں شامل ہوتا تھا۔دوستیاں بھی ایسے لوگوں کے ساتھ تھیں جو چور اُچکے، ہر وقت نشہ کرنے والے تھے جنہیں کمزوروں پر ہاتھ اٹھانے میں کوئی عار نہ تھی۔ڈاکے ڈالتے اور ہر قسم کی دہشت گردیوں میں حصہ لیتے تھے۔میری اگر چہ ایسے لوگوں کے ساتھ دوستیاں تو تھیں لیکن خدا کے فضل سے کبھی بھی کسی پر زیادتی نہیں کی بلکہ ان کو بھی روکنے کی کوشش کرتا۔ایک بار ایک شخص نے، (234)