میری پونجی

by Other Authors

Page 233 of 340

میری پونجی — Page 233

اسطرح اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے آپ کو محفوظ رکھا۔ایک بار ایسے بھی ہوا کہ خاکسار اور والد صاحب نے کوٹ کپورہ سے مگسر کے لیے جانا تھا۔ٹرین آنے والی تھی اور ٹکٹ لینا باقی تھے۔والد صاحب نے ٹکٹ با بوکو دوٹکٹ دینے کیلئے پیسے دیئے ، اندر سے جواب آیا بابا پیسے اور دو یہ توکم ہیں۔والد صاحب کے پاس وہی رقم تھی، مجھے کہنے لگے کہ تم ٹرین پر چلے جاؤ میں پیدل آجاتا ہوں لیکن میرا اصرار تھا کہ نہیں آپ ٹرین پر جائیں اور میں پیدل آ جاؤں گا۔نہ جانے کیوں میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ کتنے پیسے کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دو آنے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو مجھے کوئی سخت سی چیز محسوس ہوئی دیکھا تو دو آنہ کی رقم نکلی۔وہ دو آنے بابو کو دیے تو ہم دونوں اللہ کے فضلوں سے مغلوب ٹرین میں اکٹھے سفر پر روانہ ہوئے۔آج تک سمجھ نہیں آئی کہ رقم میری جیب میں کہاں سے آئی۔والد صاحب جسمانی لحاظ سے اتنے مضبوط نہ تھے۔ایک مرتبہ کسی نے حضرت مسیح موعود “ کو گالی دی آپ کو شدید دکھ اور ضعف ہوا اور آپ بے ہوش ہو گئے۔ہماری پھوپھی ( جو عطاءاللہ شاہ بخاری کی منہ بولی بہن تھیں) جب بھی ملنے آتیں تو گلی میں داخل ہوتے ہی بین ڈالنا شروع کر دیتیں اور کہتیں کہ : ”مرزے نے میرے پراواں نوں لٹ لیا یعنی مرزا (صاحب) نے میرے بھائیوں کولوٹ لیا ہے۔احمدیت کا ہمارے گھر میں نفوذ یہ معین کرنا کہ ہمارے گھر میں احمدیت کیسے داخل ہوئی ایک مشکل امر ہے البتہ میرے والد صاحب محترم صوفی احمد جان صاحب کے مریدوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے دعوی سے پہلے یہ شعر پڑھا تھا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر خدا کیلئے تم مسیحا بنو خدا (233)