میری پونجی — Page 206
ساتھ کی ہیں، میری امی جان کی بہت مدد کی۔ہمیشہ اُن کیلئے دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اجر عظیم عطا فرمائے۔اپنی امی کے بارے میں اتنا ہی کہ سکتی ہوں کہ ایک برد بار اور تحمل والی عورت ہی اتنی بڑی قربانی دے سکتی ہے۔جب تین ماہ کے بعد ابا جان واپس آئے تو انکا ایسٹ افریقہ جانے کا پروگرام بن گیا۔چونکہ مالی حالات اتنے اچھے نہیں تھے اور بہت مشکل سے گزراوقات ہوتی تھی۔ابا جان کی ساری فیملی افریقہ میں ہی تھی سواب ابا جان بھی افریقہ چلے گئے۔میری امی جان کے لیے ہر لحاظ سے وہ بہت ہی مشکل دور تھا مگر اُس وفا کی پتلی نے کبھی بھی اپنی زبان سے اُف نہیں کیا ، بڑی بہادری سے ہر مشکل کا سامنا کیا۔ابا جان کے افریقہ جانے کے بعد میں بھی اپنی تائی اماں کے پاس واپس چلی گئی۔میرے جانے کے کچھ عرصہ بعد امی جان اپنی تینوں بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ ربوہ کی مقدس سرزمین پر آکر آباد ہو گئیں۔1953ء مارچ یا اپریل کا مہینہ تھا جب میں اپنی تائی اماں کے پاس سے اپنی امی جان کے پاس مستقل طور پر ربوہ آگئی۔آکر میں نے سکول میں داخلہ بھی لے لیا۔میری پڑھائی تو کافی متاثر ہو چکی تھی اور میں اپنی عمر کے لحاظ سے بہت پیچھے تھی۔کلاس میں سب بچے مجھ سے عمر میں چھوٹے اور پڑھائی میں ہوشیار تھے، جبکہ میں کچھ بھی نہ جانتی تھی۔پھر بھی میری امی جان کی خواہش تھی کہ میں کچھ نہ کچھ تعلیم ضرور حاصل کر لوں۔میں بھی چاہتی تو بہت تھی مگر اب میرے بس میں نہیں تھا کہ میں اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکوں۔کوشش تو کرتی رہی لیکن میری زیادہ توجہ اب گھر کے کاموں کی طرف ہوگئی۔جب میں ربوہ آئی تو ہمارا پہلا گھر چھوٹا سا ایک کچے کمرے کا تھا۔اس کمرہ میں ہم سب سوتے تھے اور وہی ہمارا باورچی خانہ بھی تھا۔تھوڑی سی چار دیواری کر کے چھوٹا سا صحن تھا۔ان دنوں سردیوں میں ایک دو مرغیاں بھی ہمارے ساتھ ہی سوتی تھیں۔ہمارا وہ گھر شاید کالے کیڑوں کے بسیرے پر آباد تھا اور وہ کیڑے شام ہوتے ہی سینکڑوں کی تعداد میں اپنا حق جماتے ہوئے نکل آتے۔وہ اسقدر زیادہ تعداد میں ہوتے کہ ہمیں زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیتے تھے۔ہر روز امی (206)