میری پونجی — Page 207
جان چار پائیوں کے چاروں پاؤں کے نیچے پیالوں میں پانی بھر بھر کر رکھتی تھیں مگر وہ پھر بھی داؤں گا کر ہمیں کاٹ جاتے۔ان کیڑوں سے ہمارے گھر کی زمین کالی ہو جاتی تھی اور اوپر سے مچھر اپنی خوفناک میوزک کے ساتھ رات بھر تابڑ توڑ حملے کرتے اور کبھی بھی اپنا وار خالی نہ جانے دیتے۔اُس وقت کی اذیت ناک راتیں آج کی خوشگوار اور میٹھی یادیں ہیں۔ہمارے گھر کے سامنے احاطہ تھا جس میں وہ عورتیں رہتی تھیں جن کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا یعنی بیوائیں یا درویشوں کے خاندان۔ان میں ہی میری ممانی جان اور اُن کے بچے رہتے تھے۔ماموں جان قادیان میں درویش تھے۔اُن کی وجہ سے ہمیں یہ سہولت ملی کہ ہم احاطے سے بالٹیاں بھر بھر پانی لاتے اور نمازوں کے اوقات میں استانی برکت بی بی صاحبہ کے پیچھے باجماعت نمازیں بھی ادا کرتے۔ہم اس گھر میں تھوڑا عرصہ رہے وہ گھر غالباً ریلوے اسٹیشن کے قریب تھا۔میری امی جان بہت جفاکش اور محنتی خاتون تھیں۔ابا جان تو ہمارے افریقہ میں تھے۔ہم چار بہنیں اور ایک منا سا بھائی تھا جن کو امی ہر وقت اپنے پروں تلے دبائے ہر سکون پہنچانے کی کوشش میں لگی رہتیں۔اس گھر میں کافی مشکلات تھیں۔ویسے بھی یہ پہلا پڑاؤ تھا ابھی منزل تو تلاش کرنی تھی۔جانے کیسے امی کو خالہ سائرہ اہلیہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب مل گئیں جنہوں نے امی کو مجبور کر کے اپنے گھر کا آدھا حصہ کرائے پر دے دیا اور ہم وہاں شفٹ ہو گئے۔کمرہ تو وہاں بھی ایک ہی تھا مگر ساتھ برآمدہ بھی تھا جو ہمارا باورچی خانہ بنا۔صحن بھی پہلے سے تھوڑا بڑا تھا، مگر ہم خوش تھے کہ کم از کم کیڑوں سے تو جان چھوٹی تھی اور پہلے سے گھر بھی کچھ بڑا تھا۔کچھ مرغیاں یہاں بھی ہمارے ساتھ ہی آئی تھیں۔ہماری امی کو نیکی کمانے کا کوئی موقعہ ملے اُس کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں۔جیسے ہی یہ علم ہوا کہ اس گھر میں میٹھا پانی نکل سکتا ہے، فوراً گھر میں تل لگوایا۔الحمد للہ پانی بھی بہت اچھا میٹھا نکلا۔پھر کیا تھا! سب محلہ والوں کو اجازت دی کہ سب یہاں سے پانی لے سکتے ہیں۔اُس زمانہ میں نل لگوانا بڑی بات تھی۔اکثر تو ماشکی بھی ہمارے گھر سے پانی بھر نے آتے تھے۔بعض اوقات تو (207)