میری پونجی

by Other Authors

Page 162 of 340

میری پونجی — Page 162

قانونی پریشانیاں۔میں اُن کی تمام باتیں سنتی رہی۔پھر میں سامی صاحب کے پاس گئی اور اُن کی تمام پریشانیوں کا بتایا اور پوچھا کہ کیا آپ اِن لوگوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ سامی صاحب نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں اگر وہ چاہتے ہیں تو جو مجھ سے ہو سکا ضرور کروں گا۔پھر میں واپس آئی اور زرینہ (مرحومہ) بیگم سے پوچھا کہ اگر آپ ہماری مدد لینا چاہتی ہیں تو سامی صاحب آپ کی مدد کیلئے تیار ہیں اور جو بھی ہم سے ممکن ہوا وہ ضرور کریں گے۔زرینہ بیگم نے اپنے تمام ضروری کاغذات اور معلومات وغیرہ سامی صاحب کو دیے۔مرحوم محمود صاحب کے چھ بچے تھے۔دو بیٹے اور چار بیٹیاں جن میں سے جو سب سے بڑی بچی تھی اُس کی شادی تو ہو چکی تھی مگر اُس کے شوہر ابھی پاکستان سے نہیں آئے تھے۔محمود صاحب کی فیملی کو بھی ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا پاکستان سے آئے ہوئے اس لیے وہ سب یہاں کے قانون اور لوگوں کو زیادہ نہیں جانتے تھے۔کیونکہ ہم ان مشکلات سے گزر چکے تھے اس لیے جانتے تھے یہ فیملی کس مشکل سے گزررہی ہے، مدد کی حامی بھر لی۔ہمارے پرانے ملنے والے بیرسٹریز دانی صاحب سے رابطہ کیا جنہوں نے بہت پہلے ہمارا بھی کیس جیتا تھا اُس وقت سے ہمارے اُن کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔جب بھی سامی صاحب کو کسی کی مدد کرنی ہوتی اُن سے قانونی مدد ضرور لیتے تھے۔اُن سے وقت لیا اور محمود صاحب مرحوم کی بڑی سے چھوٹی بیٹی بشری کو ساتھ لیا۔یزدانی صاحب سے قانونی معاملات طے کیے۔اب مجھے یاد نہیں کہ کتنی بار ہمیں وکیلوں سے ملاقات کرنی پڑی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ الحمد للہ جو جوبھی اُن کی مشکلات تھیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب حل ہو گئیں۔اب اس فیملی کے ساتھ ہمارے بہت قریبی تعلقات ہو چکے تھے۔زرینہ بیگم صاحبہ اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے بھی بہت فکر مند تھیں۔اس میں بھی جہاں تک ہو سکا مدد کی۔ہم اُس وقت ایسٹ لندن میں تھے اور وہ وٹفورڈ میں بہت زیادہ فاصلہ تھا مگر جب بھی انہوں نے ہمیں پکارا ہم اُسی وقت اُن کے پاس گئے۔پھر یہ تعلق رشتہ داری میں بھی بدل گیا۔اُن کی ایک بیٹی کی شادی میری بہن کے بیٹے سلیم کے ساتھ ہوئی۔یہ ہم (162)