میری پونجی

by Other Authors

Page 161 of 340

میری پونجی — Page 161

گھر آ رہا ہوں۔جب وہ ہمارے گھر آئے تو شدید بیمار سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔میں گھبرائی جلدی سے پانی دیا۔لیکن وہ بہت جلدی میں تھے مجھے تین سوپونڈ پکڑا کر کہنے لگے۔باجی یہ میری امانت رکھ لیں۔اور بہت جلدی میں گھر سے چلے گئے۔شام کو جب سامی صاحب کام سے آئے تو میں نے ساری بات بتائی یہ اُسی وقت ایک غیر احمدی دوست کو لے کر اُس کے پاس گئے۔اُن کی حالت بہت خراب تھی فوری ہسپتال لیکر گئے۔ڈاکٹروں نے دیکھتے ہی جواب دے دیا کہ ان کی کڈنی فیل ہو گئی ہے اور یہ کچھ دیر کے ہی مہمان ہیں آپ ان کی وصیت لکھ لیں۔سامی کہتے ہیں کہ ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ہم ابھی ان سے پوچھ کر لکھنے لگ جائیں۔میرے ساتھ جو دوست تھا اس کے مشورہ سے سوچا کہ کل ہم ایک دو اور دوستوں کو ساتھ لیکر آئیں گے تو سب کچھ پوچھ کر لکھ لیں گے۔اگلے دن جب یہ سب دوست گئے ہیں تو وہ بیچارے اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ سب حیران پریشان رہ گئے۔کیونکہ ہمارے پاس اُن کی تمام معلومات تھیں اس لیے سامی صاحب نے پاکستان میں اُن کے گھر اطلاع دی۔دوسرے دن جمعہ تھا۔سب دوستوں نے مل کر چندہ اکٹھا کیا اور اُن کی میت پاکستان بھجوائی اور ساتھ وہ تین سو پونڈ جو ایک دن پہلے میرے ہاتھ میں پکڑا کر گئے تھے۔یہ تمام غیر از جماعت لوگ سامی صاحب کی بہت عزت و احترام کرتے تھے۔سامی اُن سب کے امین بھی تھے۔1982ء کی بات ہے کہ ایک دن اچانک خبر ملی کہ محترم محمود احمد مختار صاحب کی وفات ہوگئی ہے۔یہ خبر ہمیں کچھ لیٹ ملی۔بہت افسوس ہوا۔سوچا چلیں افسوس کیلئے جاتے ہیں ، سامی صاحب کی اُن کے ساتھ کچھ تو شاید پاکستان سے ہی واقفیت تھی اور کچھ یہاں مسجد اور جماعتی پروگراموں کی وجہ سے تعلق تھا۔افسوس کے لیے ہم وٹفورڈ گئے۔چونکہ کچھ دن گزر چکے تھے اس لیے اب اور لوگ نہیں تھے۔سامی صاحب تو مردوں میں اور میں اُنکی بیگم کے پاس بیٹھ گئی جو بہت افسردہ تھیں، باتوں باتوں میں وہ اپنی مشکلات کا بھی اظہار کر رہی تھیں۔مالی مشکلات اور جو اُن کا گھر تھا اُس کی کچھ (161>>