میری پونجی

by Other Authors

Page 159 of 340

میری پونجی — Page 159

سردار مصباح الدین صاحب مرحوم کی۔سامی صاحب اپنے والد صاحب سے بے حد پیار کرتے اور حضرت مصلح موعودؓ سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔سامی صاحب اس آفس میں کام کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے لیکن اُن کی نظر میں کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں تھا۔ہر وہ کام جو اُن کے ذمہ لگایا جاتا اُس کو اپنا فرض سمجھ کر کرتے وہ اپنی ذات کو بھول جاتے۔کام کو اللہ کی دین سمجھتے۔زندگی کا آخری کام جماعت احمدیہ کا 1902 ء سے 2000 ء تک کا ریکار ڈا کٹھا کرنا تھا۔میں نے اُن کو دن رات سر جھکائے بے شمار کتب، اخبار، رسائل سے مواد تلاش کرتے دیکھا۔جب کہ اُن کو اپنی بیماری کا بھی علم ہو چکا تھا۔کہتے جانے کب بلاوا آ جائے تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتا ہوں۔ایک کام جس سے وہ بے حد خوش تھے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جامعہ احمدیہ، جو لندن میں مکرم مولانا لئیق احمد طاہر صاحب پرنسپل کی زیر نگرانی قائم ہونا تھا، میں سامی صاحب کو سیکرٹری پرنسپل جامعہ کے لیے اعزازی طور پر نامزد کیا تھا۔یہاں میں سامی صاحب کی ایک بہت بڑی خوبی بیان کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے خدا کے فضل سے جماعت کا بہت کام کیا ہر جگہ کیا۔مگر جب وہ گھر آتے تو کبھی میں سوال کرتی سامی آج کی کوئی خاص بات ! تو ہمیشہ اُن کا جواب ہوتا میں کوئی بات نہ سننے جاتا ہوں اور نہ مجھے کسی بات کا علم ہوتا ہے۔میں اپنے کام سے کام رکھتا ہوں اور اپنا کام ختم کر کے گھر آجاتا ہوں۔سامی صاحب کی خدمت خلق آپ چونکہ خود کافی دکھ اور تکلیفیں اُٹھا چکے تھے اس لیے اب کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر چھوڑی تھی۔سوشل ویلفیئر اُن کا شوق ہو گیا تھا۔اب وہ بہت سارے بچوں کے باپ اور بھائی بنے ہوئے تھے۔اُن بچیوں کے گھر کوئی جھگڑا ہو تا سیدھی وہ ہمارے گھر کا رُخ کرتیں۔سامی اُن کی صلح کرواتے اور گھر چھوڑ کر آتے۔ایک (159)