میری پونجی — Page 160
سکھ فیملی گھر کے قریب رہتی تھی۔وہ ہماری بہت عزت کرتے تھے۔اُن کے ایک بیٹے کی شادی کا مسئلہ تھا ، وہ ماں اور بڑے بھائی کے کنٹرول میں نہیں تھا۔وہ ہمارے پاس آئے کہ آپ اُس کو سمجھا ئیں کیونکہ وہ صرف آپ کی بات مانتا ہے اور کسی کی نہیں سنتا۔پھر سامی نے اور میں نے اُس کو سمجھایا۔لڑکی نے انڈیا سے آنا تھا۔وہ بچی انڈیا سے سیدھی ہمارے گھر آئی۔ہم ہی اُس کو گرودوارے لیکر گئے اور اُس کی رخصتی ہوئی۔اب جب بھی کبھی جھگڑا ہوتا تو وہ سیدھی بھاگ کر ہمارے گھر آجاتی۔پھر ہم اُس کی صلح کرواتے اور گھر چھوڑ کر آتے۔رنجیت نے ہی ایک نوجوان لڑکے سعید صاحب کی ملاقات سامی صاحب سے اس لیے کروائی کہ اُس کی بیوی کو پاکستان سے بلوا نا تھا اور قانونی معاملات تھے جو سامی صاحب نے حل کروائے اور اُس کی بیوی پاکستان سے ہمارے ہی پاس آئی۔اُنہوں نے ایک کمرہ کرایہ کا لیا ہوا تھا وہاں رہتے تھے مگر ہمارا گھر اُن کے والدین کا گھر بن گیا، کیونکہ وہ سامی صاحب کو کہتی تو بھائی جان تھی مگر یہ اس کو ایک باپ کی طرح ہی پیار کرتے تھے۔جب ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے تو سعید صاحب کوئی بی کا حملہ ہو گیا جس کی وجہ سے اُن کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔جتنا عرصہ وہ ہسپتال میں رہے، میں اُن کا کھانا بناتی اور یہ آکر اُن کو ہسپتال میں کھانا دے کر آتے اور ساتھ اُتنی دیر اُن کی بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال بھی ہم کرتے رہے۔اب اُن کے وہ چاروں بچے بھی ماشا اللہ جوان ہو گئے ہیں ہمارے ساتھ وہی پیاراور لگاؤ ہے جو اپنے تنہیال یا ددھیال والوں سے ہوتا ہے۔اس طرح ان کے ایک دوست جن کا نام یوسف صاحب تھا سیالکوٹ سے تھے، اکیلے رہتے تھے۔ہمارے گھر اُن کا کافی آنا ہوتا تھا، اُنکی فیملی پاکستان میں تھی جن کے لیے وہ بہت اداس رہتے تھے۔سامی اُن کی فیملی کو بلوانے میں مدد کر رہے تھے ، ہوم آفس والوں کے ساتھ کارروائی ہو رہی تھی۔جدوجہد کے آخری مراحل تک پہنچنے والے تھے کہ یوسف صاحب ایکدم بیمار ہو گئے۔ایک دن جب سامی صاحب کام پر تھے تو ان صاحب کا فون آیا کہ باجی آپ گھر پر ہیں؟ میں آپ کے (160)