میری پونجی — Page 158
میری یونجی راہ پکڑوں۔کیا آپ سب میری پینشن پر گزارا کر سکیں گے؟ کیونکہ اگر آج میں دین کے حق میں فیصلہ کر لوں گا تو پھر کبھی بھی دنیاوی کام ہرگز نہیں کرونگا۔بھلا ہماری کیا مجال تھی کہ ہم دین کا راستہ روک کر دنیا کی بات کرتے۔الحمد للہ ویسا ہی ہوا جیسا سامی صاحب نے چاہا۔مجھے آج اس بات کی خوشی ہے کہ ہم کبھی سامی صاحب کی ذمہ داریوں میں حائل نہیں ہوئے۔سامی صاحب کی خدمت دین سامی صاحب دنیا داری کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان، خلفاء کی اطاعت اور دین کی خدمت ہی اُن کی زندگی کا مقصد تھا۔تحدیث نعمت کے طور پر کہتے خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ میں نے تین امراء کی انتظامیہ میں ادنی ترین رکن رہنے کی سعادت حاصل کی۔چوہدری عبداللہ خان صاحب کراچی ، خان شمس الدین خان صاحب پشاور اور آفتاب احمد خان صاحب بر طانیہ۔الحمد للہ تیس سال تینوں کے ساتھ دس دس سال کام کیا۔1984ء حضور خلیفة امسیح الرابع کی آمد کے بعد لندن کی جماعت میں بہت سے عہدوں پر کام کیا۔لکھوں تو بہت بڑی لسٹ بن جاتی ہے مختصر بیان کر دیتی ہوں۔اخبار احمدیہ کے دس سال تک ایڈیٹر رہے۔برطانیہ کی تقریبات کی رپورٹنگ برائے اخبار الفضل، اخبار احمدیہ، اخبار الفضل ربوه اخبار انٹر نیشنل لندن، اخبار بدر قادیان کیلئے کی۔14 سال تک امام مسجد لندن مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کے ساتھ اعزازی طور پر معاون مددگار رہے اور امام صاحب کی معاونت میں بہت سارے شعبوں میں کام کرنے کی توفیق پائی لیکن لندن میں سامی صاحب یہ سب کام کرنے کے لیے جس جگہ پر بیٹھ کر کام کرتے تھے، جو خوشی اُن کو وہ جگہ دیتی تھی وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی کہ کیسے خوشی اُن کے چہرے اور لفظوں سے ٹپکتی تھی۔وہ کہتے جہاں امام صاحب کے دفتر میں میرے بیٹھنے کی جگہ ہے اُس دیوار پر لگی تصویر مجھے کام کرنے کی طاقت بخشتی ہے۔وہ تصویر ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور صحابہ کرام اور بزرگان سلسلہ کے ساتھ والد صاحب سابق امام مسجد فضل لندن جناب (158)