میری پونجی

by Other Authors

Page 150 of 340

میری پونجی — Page 150

کہ سامی ہیں کہاں۔پولیس والے کچھ بتا کر گئے تھے کہ ہم ان کو فلاں جگہ لے کر جا رہے ہیں جس کی مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی ہاں ایک چٹ میرے ہاتھ میں دے گئے تھے جس کو میں نے سنبھال لیا تھا۔ابا جان آگئے۔انہوں نے اپنے جاننے والوں سے بات کی۔اُدھر ربوہ کے ہمارے ہمسائے بھائی حمید ( جن کے ساتھ خون کا رشتہ تو نہیں تھا مگر تعلق بھائیوں جیسا ہی تھا) کو بلا یا اللہ تعالیٰ مدد کرتا گیا سب اکٹھے ہو گئے۔ابا جان کے ملنے والے عزیز دین صاحب نے ایک وکیل یزدانی صاحب سے تعارف کروا دیا جنہوں نے اب ان کا کیس لڑنا تھا اور بھائی حمید نے ایک سوشل ورکر صدیقی صاحب سے میرا تعارف کروا دیا کہ جو بھی مشکلات ہیں اُن کو بتاؤں اس طرح لوگ میرے اردگرد مدد کیلئے تیار ہو گئے۔پہلا کام یزدانی صاحب کا تھا کہ وہ سامی کے پاس جائیں اور تفصیل اُن سے پوچھیں اور کام شروع کریں مگر سامی صاحب نے انکی کوئی بھی مدد لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے ڈیپورٹ کر دیں واپس پاکستان بھیج دیں۔میں ایک دن بھی اس جیل میں نہیں رہنا چاہتا۔یزدانی صاحب نے بہت سمجھایا کہ آپ فکر نہ کریں ہم آپ کے بیوی بچوں کو اور آپ کو واپس نہیں جانے دیں گے۔صرف آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔سامی صاحب نے صاف انکار کر دیا۔یزدانی صاحب نے مجھے اپنے گھر بلایا۔میں اپنے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لیکر ان کی رہائش گاہ پر گئی تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ تمہارے میاں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے تو ہم کیس کو آگے کیسے لیکر جائیں۔اب تم اُن کو ملنے جاؤ اور اُن کو سمجھاؤ کہ وہ ڈیپورٹ ہونے کی ضد نہ کریں۔آخر مجھے وہاں جانا پڑا جہاں جانے سے جان نکل جاتی ہے۔ہم جیسے لوگوں کو تو ان سے ملنا بھی مشکل لگتا ہے جو جیل سے نکل کر آیا ہو اور آج میں خود وہاں جارہی تھی۔خوف اور پریشانی سے میرا بُرا حال تھا مگر بہت ہمت اور خود اعتمادی سے مجھے سارے کام کرنے تھے۔میں پھر اپنے چھوٹے بیٹے بلال کی اُنگلی پکڑ کر اس راہ کی طرف چل پڑی جہاں میری زندگی کا ساتھی سلاسل کے پیچھے بند تھا۔نہیں جانتی تھی کہ کیا کروں گی، کیسے اندر جانا ہوگا؟ کچھ نہ کچھ ہمارے وکیل نے مجھے سمجھا دیا تھا۔(150)