میری پونجی — Page 151
جب میں وہاں پہنچی اونچی اونچی دیوار میں چاروں طرف پولیس پہرے دار، اندر جانے کیلئے چھوٹا سا دروازہ۔میری اور میرے بیٹے کی تلاشی ہوئی ، فارم پر کیا اور اندر چلی گئی۔سامنے ہی ایک کرسی پر سامی سر جھکائے بیٹھے ہوئے تھے، تین سال کے بیٹے بلال کو دیکھ کر مسکرائے گلے لگایا اور آنکھوں میں آنسو آ گئے۔مجھے تو یہ سمجھا کر بھیجا گیا تھا کہ تم نے کتنا مضبوط ہونا ہے۔میں نے تسلی کے دو بول بولنے کی کوشش کی تو کچھ سننے سے پہلے ہی کہنے لگے: تمہارے ابو اس ملک میں رہتے ہیں تم یہاں رہ جاؤ۔پر میرے لیے کچھ نہ کہنا میں واپس جانا چاہتا ہوں اور آج ہی وکیل کو کہو کے میرا کیس آگے نہ لے کر جائے۔میں ایک دن بھی یہاں نہیں رہ سکتا۔“ میں نے کہا: اگر آپ جائیں گے تو میں اور بچے بھی ساتھ ہی جائیں گے مگر اُس کے لیے بھی کوئی کارروائی کرنی پڑے گی۔“ غرض چھ ہفتے سامی صاحب کو وہاں گزارنا پڑے۔اس دوران سامی نے اندر رہ کر شاید ہمیں مرتبہ قرآن کریم پڑھا ہوگا۔اُن کے لیے بہت مشکل وقت تھا مگر جو مشکلات مجھے بچوں کے ساتھ تھیں ان کا تو کچھ پوچھیں ہی نہیں۔کوئی خرچ پاس تھا نہ کہیں سے کسی مالی مدد کی امید تھی۔لوگوں کی باتیں بھی برداشت کرنی پڑتی تھیں کہ جانے کیوں لوگ بلا سوچے سمجھے گھر سے نکل آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اُن دنوں کی یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔اس دوران میرے ابا جان رات کو میرے گھر آ جاتے اور صبح وہاں سے کام پر چلے جاتے جو میرے گھر سے تقریب دو تین گھنٹے کی مسافت پر تھا۔یہ دور میرے ابا جان کے لیے بھی انتہائی مشکل وقت تھا۔میں سامی صاحب کو ہفتے میں دو بار جا کر مل آتی۔بچے جب پوچھتے ابو کہاں ہیں تو اُن کو یہ ہی بتایا کہ وہ پھر بیمار ہو گئے ہیں اور اب وہ فوجی ہسپتال میں ہیں، فوجی ہسپتال اس لیے بتانا پڑا کہ بلال گھر آ کر اپنی بہن اور بھائی کو بتا تا تھا کہ (151)