میری پونجی

by Other Authors

Page 149 of 340

میری پونجی — Page 149

ساتھ لیکر جاتی اور کبھی اپنی لینڈ لیڈی کے پاس چھوڑ کر جاتی لبنی کے ہسپتال والوں نے اجازت دی ہوئی تھی کہ میں لینی کومل کر بچوں کو وہاں چھوڑ کر سامی صاحب کو ملنے جاسکتی ہوں واپسی پر میں بچوں کو لے آتی تھی۔آمدنی کا سلسلہ رک گیا بچوں کا وظیفہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا۔تھوڑ اساسامی صاحب کی بیماری کا الاؤنس ملتا تھا جس میں گزارا کرتی تھی۔لینی تقریباً پندرہ ہمیں دن کے بعد گھر آگئی مگر سامی صاحب دو ماہ کے بعد گھر آئے لیکن میرے لیے یہ بہت مشکل وقت تھا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور دعا کی کہ اللہ پاک اب کسی اور امتحان میں نہ ڈالنا۔ہم نے پشاور میں گھر بیٹھ کر ملک چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔اُس وقت یہ احساس تو تھا کہ مشکلات ہونگی لیکن کتنی ہونگی یہ علم نہیں تھا۔سامی صاحب کو ہسپتال سے آئے ہوئے دو ہفتے ہی ہوئے تھے کام پر بھی جانا نہیں شروع کیا تھا کہ ایک دن آدھی رات کو تقریباً وہی پولیس والے گھر آگئے جو ان کا پاسپورٹ چیک کر کے گئے تھے۔اُس رات کو اور اس بات کو میں لفظوں میں نہیں بیان کر سکتی ڈر کے مارے ہماری جان نکل گئی۔ایسا کبھی دیکھا تھانہ بھی سوچا تھا جو ہمارے ساتھ ہو گیا۔روتے بلکتے بچوں کو پکڑ کر میں نے پولیس والوں کی منت سماجت کی کہ ہمیں بھی ساتھ ہی لے جائیں۔سامی صاحب اور پولیس والوں نے ہمیں ساتھ لے کر جانے سے انکار کر دیا۔میں دیکھتی رہ گئی اور میرے شوہر کو جو شہزادوں کی طرح کی زندگی گزارنے والا تھا، over stay ہونے کے جرم میں پولیس پکڑ کر لے گئی۔میں اُن کے لیے کچھ بھی نہ کرسکی ، میں تو رو بھی نہیں سکتی تھی کہ بچوں کو کون دیکھے گا؟ میں جس کو ایک لفظ بھی انگریزی کا نہیں آتا تھا کسی کو جانتی تک نہیں تھی۔بعض رشتہ دار تو پہلے ہی دبے لفظوں میں کہتے تھے کہ کیوں آگئے ہیں؟ اُن دنوں بہت کم لوگوں کے گھروں میں فون ہوتا تھا۔ہمارے پاس کسی ایسی سہولت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، میں آدھی رات کو بچوں کو اکیلے چھوڑ کر باہر فون بوتھ پر جگہ جگہ فون کرتی رہی مگر مجھے کوئی واقف کار نہیں ملا۔وہ رات میں نے کانٹوں پر گزاری صبح اپنے ابا جان کو فون کیا کہ یہ تو پتہ چلے (149)