میری پونجی

by Other Authors

Page 104 of 340

میری پونجی — Page 104

محترمه حاکم بی بی صاحب مرحومه والدہ محترمہ بشیر الدین احمد سامی صاحب مرحوم آج میں اپنی اس ماں کا ذکر کروں گی جن کی دعا، شفقت اور بے لوث پیار بفضل الہی مجھے شادی کے بعد نصیب ہوا۔یعنی اماں جی حاکم بی بی صاحبہ اہلیہ سردار مصباح الدین صاحب (سابق مبلغ انگلستان) جو میرے شوہر محترم بشیر الدین سامی صاحب کی والدہ تھیں۔شادی کے وقت سامی صاحب مرحوم کی نوکری پشاور میں تھی اس لیے میں شادی کے فورا بعد پشاور چلی گئی تھی۔وہاں سے لندن آگئی میں تو دور تھی مگر وطن میں میرے میکے اور سسرال والوں کا آپس میں ایک دوسرے سے بے حد محبت اور پیار کا رشتہ شروع ہو گیا جو ہمیشہ ہمیش کیلئے مضبوط تر ہوتا گیا۔اس طرح میں بے شک چنیوٹ میں اپنے سسرال کے گھر نہیں رہی مگر آنا جانا ملنا اور محبت پیار میں کوئی کمی نہیں تھی۔میں دور تھی یا پاس، اماں جی اور ابا جی کی طرف سے پیار کی بارش ہمیشہ میرے اوپر برسی۔میں نے بھی دل و جان سے اُن سے پیار کیا اور ہمیشہ اُن کی دعائیں لیں۔اماں جی جب چنیوٹ میں شدید بیمار ہو گئیں سے اُن سے پیار تو کچھ عرصہ کے لیے وہ ہمارے پاس پشاور آگئیں، ڈاکٹروں سے جتنا ممکن تھا علاج کیا مگر مرض لا علاج ہو چکا تھا۔کینسر اپنی آخری حدود کو چھو چکا تھا۔ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق ان کو ہم واپس چنیوٹ لیکر آگئے۔یہ اُن کی زندگی کا آخری سفر تھا۔میری شادی کے تین سال بعد اُنکی وفات ہوئی۔میں نے بہت کم وقت اُن کے ساتھ گزارا مگر یقین کریں مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ہمیشہ اُن کے ساتھ ہی رہی ہوں۔سامی صاحب مرحوم کی بات اپنی اماں جی سے شروع ہوتی تھی اور اماں جی پر ختم ہوتی تھی۔جن دنوں اماں جی میرے پاس پشاور آئیں، میری بڑی بیٹی کے بعد میرے (104)