میری پونجی — Page 105
دوسرے بچے کی ولادت ہونے والی تھی۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میری گود میں چاند ہے اور نام منیر احمد تجویز کر دیا۔اماں جی کی وفات کے پورے پانچ ہفتوں بعد اللہ تعالی نے اُن کی دعاؤں سے بیٹا دیا جس کا نام ہم نے منیر شہزاد احمد رکھا۔ہمیشہ سامی صاحب نے اپنے بہن بھائیوں سے پیار کیا اور ہمیں بھی دور ہونے کے باوجود دوری محسوس نہیں ہونے دی۔اپنی نند مسرت اور باقی سسرالی رشتے داروں سے میرا بہت بہت پیار کا رشتہ قائم ہے، الحمد للہ۔سامی صاحب کی وفات کے بعد بھی تمام رشتے میرے لیے بہت محترم ہیں۔سامی صاحب سے کچھ سنی ہوئی باتیں اور کچھ اپنی نند مسرت کوثر سے پوچھ کر اماں جی کی سیرت پر کچھ لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں۔اللہ کرے کہ میں یہ بطور تحدیث نعمت جو کچھ لکھ رہی ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے قبول فرمائے۔آمین۔اماں جی مرحومہ کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک نامور زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔کہتے ہیں کہ اُن کے ہاں اولا دزندہ نہیں رہتی تھی۔جب اماں جی مرحومہ کی پیدائش ہوئی تو بچی کی سلامتی کے لیے دادا کے حوالے کر دیا۔اماں جی نے بتایا کہ میں سات سال کی تھی تو میری شادی ہو گئی مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی پھر جب میں نو برس کی ہوئی تو میرے ماموں اور ممانی مجھے میرے سسرال میں لیکر گئے اور پھر ساتھ ہی واپس لے آئے۔جب میں تیرہ (13) سال کی ہوئی تو میری رخصتی ہو گئی اور میں نے سسرال سیالکوٹ میں رہنا شروع کر دیا۔چونکہ میرے شوہر قادیان میں زیر تعلیم تھے اس لیے اکثر میرے والد صاحب مجھے لے آتے اور میرے سسر آ کر لے جاتے۔ایک مرتبہ جب میں اپنی والدہ کے ساتھ سیالکوٹ سے واپس آرہی تھی تو ایک عورت ہمارے گاؤں کی میری والدہ کو کہنے لگی کہ تمہارا روپیہ کھرا ہے ( یعنی تمہارا داماد بہت اچھا ہے) والدہ نے جواب دیا ہاں میرا روپیہ بہت اچھا ہے۔اماں جی مرحومہ نے ایک اور دلچسپ بات اپنے بارے میں بتائی کہ میں اور میری سہلیاں نہر میں نہا رہی تھیں اور ایک دوسری سے ہنسی مذاق بھی کر رہی تھیں کہ دور سے ایک نوجوان کو آتے (105)