میری پونجی

by Other Authors

Page 80 of 340

میری پونجی — Page 80

جناب قاسم محمود صاحب نے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی سائنس کے میدان میں خدمات اور کار ہائے نمایاں پر اپنے خطاب میں کیا۔یہ واقعہ فلم بند بھی ہوا اور مسلم احمد یہ ٹیلیویژن پر دکھایا گیا۔جناب قاسم محمود صاحب لکھتے ہیں: ڈاکٹر صاحب کا لاہور سے ٹیلیفون آیا کہ آپ میری ہمشیرہ کے گھر پہنچ جائیں۔پتہ آپ اُن سے خود پوچھ لیں۔گلیوں میں مکان تھا جس کے دروازے پر پردہ لٹک رہا تھا۔کچھ مشتاق حضرات ڈاکٹر صاحب سے ملنے کیلئے موجود تھے۔جس کمرے میں ہم بیٹھے ہوئے تھے، بیٹھک کہنا چاہئے جو ہمارے متوسط طبقہ میں ہوا کرتا ہے۔دیواروں پر خوبصورت قرآن کریم کے طغرے آویزاں تھے۔لیجئے ڈاکٹر صاحب کی سواری آگئی لیکن وہ بیٹھک میں نہیں آئے جہاں ہم سب بیٹھے ہوئے تھے۔اُنہیں چپکے سے ساتھ والے بغلی کمرے میں لیجایا گیا۔دونوں کمروں کے درمیان کواڑ تھے اور بند تھے۔پھر بھی ایک تھوڑی سی جھری رہ گئی تھی۔خوامخواہ میری نظریں اس طرف کو جھی ہوئی تھیں۔ایک اونچی سی کرسی پر ایک بت رکھا ہوا تھا۔سر پر پگڑی لمبی سفید داڑھی۔میں نے سمجھا کہ یہ بت مرزا صاحب کا ہی ہو سکتا تھا۔میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب جھک کر اوتار کی قدم بوسی کر رہے ہیں۔کسی نے کواڑ بند کر دیا اور میں خفیف سا ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔جو خیالات میں ڈاکٹر صاحب کیلئے رکھتا تھا وہ بت پرستی سے بڑی طرح متزلزل ہو گئے گو یا دنیا ہی بدل گئی۔ڈاکٹر صاحب اپنی ہمشیرہ ، بھانجی ، بھانجیوں سے مل کر بیٹھک میں آئے۔اُن کی مہربانی انہوں نے سب سے پہلے مجھے ہی قریب بلا یا اگر چہ میں اندر سے گھلا ( کھولا ہوا تھا۔میں نے جلدی سے اجازت لی اور وہاں سے اٹھ آیا۔میں نے وہ رات کا نٹوں پر بسر کی۔کتنا عظیم انسان جو بات بات پر قرآنِ کریم کے حوالے دیتا ہے۔بت پرست ہوسکتا ہے، سمجھ میں نہ آئے۔دوسرے (80)