میری پونجی — Page 81
دن مجھ سے نہ رہا گیا ، اور میں نے انکی ہمشیرہ کو فون کیا اور وہ بہت خوشی سے پیش آئیں۔وہ بہت خوش تھیں کہ ان کے بھائی جان نے غریب نوازی کی تھی اور عرصہ دراز کے بعد ان کے گھر آئے تھے ورنہ پہلے باہر ہی ہوٹلوں میں ٹھہر کر چلے جاتے تھے۔کہنے لگیں کہ میرا بھائی بہت خوش خوراک ہے میں نے ان کی پسند کی تین ڈشیں بنائی تھیں لیکن آپ جلدی چلے گئے۔میں نے جسارت کر لی کہ بتائیں ہمارے کمرہ میں آنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب بغلی کمرہ میں کس کے پاس گئے تھے۔کہنے لگیں یہ ایک بہت ہی ذاتی سی بات ہے۔سختی سے منع کر رکھا ہے مگر آپ نے پوچھا ہے تو بتا دیتی ہوں۔یہ اُن کے آخری استاد ہیں جو بقید حیات ہیں باقی سب اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔کیا بتاؤں بھائی جان اپنے استادوں کی اتنی عزت کرتے ہیں کہ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔یہ آخری استاد ہیں سکول کے زمانے کے 80 یا85 سال کے تو ہونگے۔بھائی جان کو انہوں نے چھوٹی کلاسوں میں پڑھایا ہے۔پتہ نہیں فارسی ، عربی ، تاریخ یا جغرافیہ پڑھایا ہے۔مجھے معلوم نہیں پہلے وہ جھنگ (چنیوٹ ) میں رہتے تھے اور جب مصروفیت اجازت دیتی تھی ، ڈاکٹر صاحب ان سے ملنے کیلئے چنیوٹ چلے جاتے تھے پھر مصروفیت زیادہ بڑھیں تو انہیں کراچی بلوالیا اور کورنگی میں ایک کوارٹر لے دیا ہے۔حسب توفیق خدمت کرتے رہتے ہیں اپنے استاد کی قدم بوسی کیلئے وہ خود کراچی آتے جاتے ہیں۔ان کے پاس پیش ہوتے ہیں۔لیکن کل صبح ہی بھائی جان نے لاہور سے ٹیلیفون کیا تھا کہ ماسٹر صاحب کو کورنگی سے ایسی گاڑی بھجوا کر بلوالوں جس میں انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔اس لیے ہم نے گاڑی بھجوا کر انہیں بلوالیا وہ تو بس پانچ منٹ میں واپس چلے گئے تھے۔میں آپکو بتاؤں میرا بھائی فرشتہ ہے فرشتہ !!“ جناب قاسم محمود صاحب نے جب اپنا مبہوت کن واقعہ ختم کیا تو سامعین نے بھر پور تالیوں سے (81)