میری پونجی

by Other Authors

Page 79 of 340

میری پونجی — Page 79

والدہ مرحومہ نے فی الفور انتظام کر کے رقم بھجوا دی۔جب اس رقم کا منی آرڈر ڈا کیہ لیکر حضرت سیٹھ صاحب کے پاس آیا تو سیٹھ صاحب بہت حیران ہوئے کہ سردار صاحب نے یہ رقم کیوں منگوائی ہے۔انہوں نے سردار صاحب سے پوچھا تو انہوں نے حقیقت حال سنادی، حضرت سیٹھ صاحب نے شکوہ کیا کہ آپ نے مجھے بتایا ہوتا خواہ مخواہ اپنی اہلیہ کو پریشان کیا۔اتنی سی رقم میرے لیے کوئی زیادہ نہیں تھی۔محترم سردار صاحب نے وضاحت فرمائی کہ سیٹھ صاحب میں پہلی بار آپ کا مہمان ہوا اور آتے ہی اپنی اس ناگہانی ضرورت کو پیش کرتا، یہ میرا ضمیر نہیں مانتا تھا۔یہ سوچ کر کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو صاحب ثروت لوگوں سے تعلق پیدا کر کے فوائد حاصل کرتے ہیں کہیں میں بھی ان لوگوں میں شمار نہ ہو جاؤں۔حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب ان کی اس توضیح سے متاثر تو ہوئے لیکن یہی فرمایا سردار صاحب میں آپ کے متعلق ایسے بھلا کیسے سوچ سکتا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب محترم سردار صاحب کی بے حد عزت و احترام دل میں بسائے ہوئے تھے ،اکثر خط و کتابت بھی رہتی تھی۔اپنی دینی و علمی کوششوں کیلئے اُن کو دعا کیلئے بھی لکھتے رہتے تھے۔پاکستان تشریف لاتے تو باوجود انتہائی مصروفیت کے وقت نکال کر وہ محترم سردار صاحب کو ملنے کیلئے چنیوٹ حاضر ہوتے۔جب سردار صاحب چلنے پھرنے کی معذوری کی وجہ سے کراچی منتقل ہو گئے تو ان سے وہاں بھی ملاقات کا موقع پیدا کر لیتے۔بلکہ انکی معذوری کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے انکو ایک اچھے ہسپتال میں داخل کروادیا اور مزید آپریشن کے تمام اخراجات خود برداشت کئے۔1978ء میں جب کسر صلیب کا نفرنس کیلئے انگلستان آئے تو اس موقع پر بھی انہوں نے محترم سردار صاحب کو اپنے گھر پر بلوا کر مہمان نوازی کی۔سائنس میگزین کے ایڈیٹر جناب قاسم محمود کی نظر کا مبہوت کن واقعہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو ابا جی محترم سردار صاحب کے ساتھ جو عقیدت تھی اس کی ایک جھلک اس مبہوت کن واقعہ میں نظر آتی ہے جس کا ذکر پاکستان کے سائنس میگزین کے معروف ایڈیٹر (79)