میری پونجی — Page 58
کارکن جو ٹیلیفون پر تھا سخت گھبرا گیا۔افراتفری میں کہہ دیا کہ ہاں حضور یہ رپورٹ سردار صاحب کی ہے۔اس پر حضور سمجھ گئے کہ کارکن گھبرا گیا ہے۔اس کو فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ رپورٹ سردار صاحب کی ہے تو مان لیتا ہوں لیکن یہ ہے غلط اس لیے سردار صاحب سے کہو کہ مجھے فورأفون کریں۔سردار صاحب نے حضور سے رابطہ کیا اور صیح رپورٹ پیش کی اور غلط رپورٹ کی معذرت کی۔اسپر حضور نے فرمایا میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ رپورٹ افراتفری میں دی گئی ہے۔مکرم سردار صاحب ڈیڑھ سال قادیان سے باہر رہے اس دوران حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات ہو گئی۔اسی سال جنگ عظیم کا خاتمہ بھی ہوا اور ملک ہندوستان تقسیم کی وجہ سے فسادات کی لپیٹ میں آجانے کے بعد ربوہ میں جب پہلا جلسہ سالانہ ہوا تو حضرت حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب افسر جلسہ سالانہ مقرر ہوئے۔مکرم شاہ صاحب نے مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب کو افسر استقبال مقرر فرمایا۔حضرت شاہ صاحب کے سردار صاحب کے ساتھ مشفقانہ تعلقات تھے۔قادیان سے بھی اور انگلستان سے بھی۔اسطرح اُن کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق تھا۔انہوں نے سردار صاحب کو بھی استقبالی ٹیم میں شامل کر لیا۔یہ انکی شفقت تھی جبکہ جملہ نگرانی مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب ہی ادا فرمارہے تھے۔پاکستان آنے کے بعد چنیوٹ میں سکونت قادیان سے ہجرت کے بعد مکرم سردار صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ انکی زندگی شروع سے ہی مرکز سے وابستہ رہی ہے اس لیے بقیہ زندگی بھی مرکز میں ہی گزاریں گے اور مرکز قادیان کا قافلہ جہاں بھی ڈیرہ ڈالے گا وہیں کے ہو رہیں گے۔یہ محض جذباتی بات نہ تھی بلکہ یہ ایمان تھا کہ مرکز سلسلہ سے وابستگی کے بغیر زندگی ، زندگی نہیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا۔جیسے مرکز سلسلہ نے ہجرت سے قادیان کے بعد لاہور سے منتقل ہو کر چنیوٹ میں پڑاؤ ڈالا وہ بھی مع اہل وعیال چنیوٹ منتقل ہو گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے چنیوٹ میں مرکزی دفاتر اور ہائی سکول کھل گئے اور مرکزی مفکر، علماء، مدرس، (58)