میری پونجی

by Other Authors

Page 59 of 340

میری پونجی — Page 59

مبلغین، بزرگانِ دین اور صحابہ حضرت مسیح موعود چنیوٹ کے گلی کوچوں میں چلتے پھرتے نظر آنے لگے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے چنیوٹ کا کوئی کو چہ نہیں ہوگا جسے اپنے بابرکت قدموں سے نہ چھوا ہو۔چنیوٹ (محلہ گڑھا) میں مندر والی گلی بہت معروف تھی جہاں حضرت سردار صاحب کا مسکن تھا۔اس گلی میں حضرت مفتی صاحب کا اکثر گزررہتا تھا۔ہماری والدہ مرحومہ کو ہر چند فکر رہتی تھی کہ جب حضرت مفتی صاحب گزر رہے ہوں تو کوئی ہمسائی چھت کے پرنالے سے گندہ پانی نہ بہارے محلہ کی سب عورتیں چونکہ ہماری والدہ مرحومہ کی بہت عزت کرتی تھیں اس واسطہ سے اور حضرت مفتی صاحب کی سبز پگڑی کی وجہ سے ان کی پہچان رکھتی تھیں اور احتیاط کرتی تھیں۔پاکستان بننے کے بعد اگرچہ سردار صاحب نے چنیوٹ کو اپنا مسکن بنالیا تھا لیکن انکا دل حقیقت میں مرکز سے ہی وابستہ رہا اور ایک لحظہ کیلئے بھی اس نئے مسکن کو نہیں اپنا یا۔انکے لیے یہ بات برداشت سے باہر تھی کہ کوئی انہیں قادیان اور ربوہ سے ہٹ کر کسی اور مسکن کا باسی کہے۔اُنکا تصور تھا کہ اگر چہ میں چنیوٹ میں آمکین ہوا ہوں اور اُسی کے کوچہ اور بازار میں نظر آتا ہوں لیکن میرادل، میرا دماغ ، میری روح اور میرے جسم کا ہر عضو قادیان اور ربوہ کے ساتھ پر دیا جا چکا ہے۔اسی لیے وہ برداشت نہیں کیا کرتے تھے کہ کوئی اپنا ہو یا پرایا انہیں اس سے ہٹ کر کسی اور جگہ سے منسوب کرے اگر چہ انہوں نے ہجرت کا دور چنیوٹ میں ہی گزارا لیکن اس رنگ میں گزارا کہ اگر صبح یہاں تو شام ربوہ میں کم ہی دن ہونگے کہ انہوں نے ربوہ کی گہما گہمی کو چھوڑ ا ہو۔ربوہ کی ہر خوشی ، انکی خوشی تھی ، ربوہ کا ہر دکھ ان کے سینے کا دکھ بن جاتا۔سالہا سال، زندگی بھر کوئی جمعہ ایسا نہیں آیا جو انہوں نے ربوہ جا کر نہ پڑھا ہو۔پھر انکا یہ بھی معمول کہ جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے ہر ملنے والے کے گھر جاتے اور حال احوال دریافت کرتے ، ہر بیمار کی خبر گیری فرماتے۔شادی بیاہ، بچوں کی پیدائش اور انکی دیگر چھوٹی بڑی خوشیوں میں گرم جوشی سے شرکت فرماتے اور حسب توفیق تحفہ تحائف دیتے۔ربوہ سے چھ میل دور رہتے ہوئے بھی جبکہ انہیں سواری کی بھی کوئی سہولت میسر نہ تھی اور نہ ہی (59)