میری پونجی — Page 36
اے بی ٹی (6) مصباح الدین صاحب (7) مولوی عبد الرحیم نیر صاحب (8) مولوی محمد دین صاحب بی اے (9) مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم اے (10) ملک غلام فرید صاحب ایم اے۔لندن میں تبلیغی مساعی مکرم حضرت سردار مصباح الدین صاحب لکھتے ہیں : مبلغین کرام اس سے پہلے جو اقدام عمل میں لا چکے تھے ان کو ہی آگے بڑھایا گیا۔متعارف افراد سے مزید رابطہ کیلئے مشن ہاوس میں ہفتہ وار اجلاس کا سلسلہ جاری تھا۔اسوقت جماعت کا لٹریچر بھی اسقدر موجود نہ تھا اس لیے یہی اجلاس دعوت پہنچانے کا بہترین ذریعہ تھے۔دوسری صورت ذاتی طور پر مل کر دعوت کا ذکر کیا جاتا تھا۔ہائیڈ پارک میں بھی تبلیغی کوششوں کو جاری رکھا گیا۔اس کے علاوہ بھی دعوت پہنچانے کے مواقع کے حصول کی طرف دھیان لگا رہتا۔پس ایسا ہی ایک موقع میسر آ گیا جبکہ اُردن کے شاہ عبد اللہ پاشا لنڈن تشریف لائے۔اخبار میں یہ خبر پڑھ کر ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا، تو انہوں نے بصد خوشی ملاقات کا وقت دے دیا۔اس وقت اس سرزمین میں مشن سے وابستہ ہم صرف پانچ فرد تھے۔مکرم عزیز دین صاحب سیالکوٹ کے تیار کردہ کھیلیوں کے سامان کے مینیجر تھے۔دوسرے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادے میاں عبد الرحیم صاحب خالد (طالب علم ) تیسرے مکرم سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب سکندر آباد کے صاحبزادے علی محمد عبد اللہ طالب علم ) چوتھے راجہ محمد احمد جنجوعہ ( طالب علم ) سمیت ہم پانچ پر مشتمل وفد لے کر دعوت سلسلہ پہنچانے کیلئے اردن کے حکمران کے ہاں پہنچے۔وہ والہانہ انداز سے ملے۔اُسی وقت عربی میں ایک تقریر تیار کر لی۔اس میں حضرت اقدس مسیح موعود کی آمد اور آپ کی صداقت کے دلائل کا بیان تھا۔میاں عبد الرحیم خالد صاحب چونکہ وفد میں تھے اسلیے خصوصیت سے حضرت اقدس کے نشان کا ذکر کیا جو ان کے وجود سے متعلق تھا۔الحمد للہ ! شاہ اردن نے حضرت اقدس کے ذکر سے روحانی اثر لیا اور اظہار خوشی کیا۔زبانی گفتگو میں بھی جماعت کے خصوصی کوائف (36)