میری پونجی — Page 35
حضرت سر دار مصباح الدین صاحب کی انگلستان کیلئے روانگی والد بزرگوار سردار مصباح الدین صاحب کا نام ان کے والدین نے چراغ دین رکھا تھا۔اس نام کے متعلق مکرم نسیم سیفی صاحب الفضل 7 نومبر 1994ء کی اشاعت میں لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی کو جب انہیں انگلستان بھجوانا مقصودتھا ان کا نام بدل کر مصباح الدین رکھ دیامعنی کے لحاظ سے دونوں کا ایک ہی مطلب بنتا ہے، اس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے چراغ دین کو مصباح الدین بنا کر ان کے نام میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔اسی طرح جب ایک اور شخص آئے جن کا نام رحیم بخش تھا لیکن جب انگلستان بھجوانا مقصود تھا انکا نام رحیم بخش سے عبد الرحیم رکھ دیا جو درد کے نام سے مشہور ہوئے اور سلسلہ کی عظیم خدمات کی وجہ سے بہت عزت پائی۔14 اگست 1922ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مکرم سردار مصباح الدین صاحب کو لنڈن مشن میں کام کرنے کیلئے قادیان سے روانہ فرمایا۔ان دنوں لنڈن میں مکرم مولوی مبارک علی صاحب بنگالی بطور امام مسجد اور مبلغ انچارج کام کر رہے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا تعیناتی آرڈر لیکر لنڈن پہنچے اس آرڈر میں مکرم مبارک علی صاحب کیلئے جرمنی جانے کا ارشاد شامل تھا۔پس خدمت دین کیلئے یہ انکی پہلی تعیناتی تھی جس کے تحت وہ لنڈن مشن کے انچارج ہوئے۔تاریخ مسجد فضل لنڈن مرتبہ حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب (مطبوعہ دسمبر 1927ء بمقام قادیان) میں انگلستان کے ابتدائی مبلغین کے ناموں کی فہرست میں مکرم سردار مصباح الدین صاحب کا نام چھٹے نمبر پر درج ہے جبکہ شخصی لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہیں کیونکہ حضرت فتح محمد صاحب سیال اس دوران انگلستان دو بار تشریف لائے جس کی شائع شدہ تفصیل درج ذیل ہے: (1) چودھری فتح محمد صاحب ایم اے (2) قاضی عبد اللہ صاحب بی اے بی ٹی (3) مفتی محمد صادق صاحب (4) چودھری فتح محمد صاحب ایم اے (دوبارہ ) (5) مولوی مبارک علی صاحب بی (35)