میری پونجی — Page 334
ہی کوشش میں لگ گئی تھی۔اب اگر آپ نے حج پر جانا ہے تو آج شام تک جواب دے دیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ میں ایک دم پریشان ہو گئی۔اپنی بہو عروج سے بات کی۔اُس کا جواب تھا کہ آپ کی طبیعت اتنی ٹھیک نہیں ہے آپ اگلے سال چلی جائیں۔اپنے بیٹے عکاشہ کو اسی وقت فون کیا اُس کا بھی یہی جواب تھا کہ موقع اور ساتھ تو بہت اچھا ہے مگر اس وقت آپ ٹھیک نہیں ہیں۔مجھے یقین تھا کہ اس وقت میں جس بھی بچے کو پوچھوں گی یہی جواب ہوگا۔پھر میں نے اپنے ایک ایسے محترم محسن ( جناب امام مسجد فضل لندن محترم عطاء الحجيب راشد صاحب ) کو فون کیا ، جن سے میں ہر ضروری کام کرنے سے پہلے مشورہ کرتی ہوں۔چونکہ وہ پہلے خدا کے فضل سے حج کر چکے ہوئے ہیں۔انہوں نے وہاں کے بارے میں مجھے اونچ نیچ سمجھائی اور کہا اللہ مبارک کرے۔پھر میں نے نہ اپنے بچوں سے پوچھا نہ بتایا۔اُسی وقت بشری کو فون کر دیا کہ مبارک ہو، میں اللہ کے مقدس گھر اور اللہ کے مقدس رسول سنی سی ایم کے دیدار کے لیے تیار ہوں۔اب اس مقدس سفر کی تیاری کے لیے صرف بارہ یا پندرہ دن باقی تھے لیکن الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے میرے سارے کام کر دیئے۔یہاں میں اُن سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے ہر ہر لمحہ میرا ساتھ دیا اور میرا ہاتھ تھامے رکھا۔میرے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں حج کر سکتی ہوں اور نہ ہی میری جیب میں اتنی طاقت تھی کہ میں یہ اہم فریضہ ادا کر سکوں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب میں دیدار م سایا ہی لکھ دیا تو یقین کریں میں جو ڈر ڈر جاتی تھی، کوئی خوف نہیں رہا۔اللہ نے میری اتنی مدد فرمائی کہ اُس وقت مجھے نہ کوئی مالی دشواری ہوئی اور نہ کسی سے مدد کی ضرورت پڑی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنادیا اور میری اوقات سے بڑھ کر دیا۔اگر لینے والے نے مجھ سے ایک فانی انسان لے لیا تو رحمتوں اور برکتوں کی بوچھاڑ بھی تو کر دی۔میرے لیے سودا بہت سستا ہے۔اللہ پاک سے ہر پل سامی صاحب کی مغفرت کی دعا کرتی ہوں۔انہوں نے اپنی زندگی میں اس دنیا میں میرا بھر پور (334)