میری پونجی — Page 333
کرو اللہ توفیق دے گا تو ہم حج ضرور کریں گے ، ڈرو نہیں۔پھر۔۔۔۔۔جس ہاتھ کے۔چھوٹنے کا ڈر تھا وہ زندگی بھر کا ساتھ ہی چھوڑ کر چلا گیا۔سب کچھ ٹوٹ پھوٹ سا گیا۔بظاہر حج اور عمرے کے خواب بھی دھرے کے دھرے رہ گئے لیکن وہ جو سچے دل سے حج کی دعائیں مانگنے کی تلقین کرتے تھے وہ دعائیں ضرور اللہ تعالیٰ کے گھر میں جمع ہو چکی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے روپ میں فرشتوں کو میرے لیے مقرر کر دیا ہوا تھا۔یہ سب اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کیسے؟ مجھے انفیکشن کی وجہ سے بخار تھا اور میں منہ سر لپیٹ کر لحاف میں لیٹی ہوئی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی دوتین بیل کے بعد فون اُٹھایا تو بشری عشرت صاحبہ نے سلام دعا کے بعد میری خیریت پوچھی۔میں نے اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا۔پھر جب اُنہوں نے یہ کہا کہ آپا ئیں اسلام آباد (ٹلفورڈ ) جا رہی ہوں۔سوچا آپ کو بھی ساتھ لے جاؤں۔پھر مجھے بتانا پڑا کہ اسوقت تو میری طبیعت بہت خراب ہے، میں تو بستر میں ہوں۔میں نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے پہلی بار پوچھا اور میں نہیں جا رہی اور ساتھ میں نے کہا بشری ! آپ لوگ تو حج اور عمرہ پر اکثر جاتے ہیں کبھی مجھے وہاں جانے کے لیے بھی پوچھیں؟ تو اُن کا جواب تھا کہ آیا ہم تو پھر حج پر جارہے ہیں کچھ اور لوگ بھی ہمارے ساتھ ہونگے۔ہماری تو چار پانچ مہینہ پہلے سے سیٹ بک ہو چکی ہیں اب تو کوئی چانس نہیں ہے۔میرا جواب تھا کوئی بات نہیں ابھی تو ویسے بھی میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اللہ خود ہی سامان پیدا کر دے گا۔اس فون کے کوئی پانچ یا چھ دن کے بعد صبح کوئی دس بجے کے قریب پھر فون کی گھنٹی بجی اور وہی جانی پہچانی آواز بشری عشرت صاحبہ کی آئی۔سلام کے بعد ایک دم سے کہتی ہیں : " آپا! آپ کو اللہ کے گھر سے بلاوا آیا ہے۔“ پہلے تو مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی۔پھر انہوں نے ساری بات بتائی کہ میں اُسی دن کے فون کے بعد (333)